السلام علیکم!
بعد از سلام گزارش ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو تین بچوں کے ساتھ دسمبر کے مہینے میں بوجہ روٹھ جانے کے میکے بھیج دیا تھا، ایک بچہ 18 سال کا ہے، ایک بچی 12 سال کی ہے، اور دوسری بچی 5 سال کی ہے، جس کے بعد میں روزانہ اپنی بچی کو دودھ وغیرہ دینے جایا کرتا تھا، اور اپنے بچوں سے ملاقات بھی کرتا تھا، چنانچہ معمول کے مطابق میں 19 رمضان المبارک، بروز ہفتہ رات 12:30 بجے اپنی بچیوں کو رول، دودھ اور کھلونے وغیرہ دلاکر گھر چھوڑنے واپس اپنی ساس کے گھر گیا، جہاں میری بیوی تھی، میں بڑی خوشی سے گیا تھا، کوئی طلاق کا موڈ نہیں تھا، اور بچیاں میرے ساتھ تھیں، جب میں انہیں چھوڑ کر واپس اپنے گھر کی طرف روانہ ہونے ہی والا تھا کہ میری بچی نے آواز دی کہ پاپا! آپ کو گھر والے بلارہے ہیں، میں بائیک سے اترا اور ان کی بات سننے کے لئے گیٹ پر جا کھڑا ہوا، کچھ باتیں سالی سے ہوئیں، میرے سالے کی گھر والی بھی وہیں ساتھ موجود تھیں، اور میرا سالہ بھی تھا، چنانچہ باتوں باتوں میں میرے سالے سے میری مغز ماری ہوئی، اس وقت میری بیوی گھر میں نماز پڑھ رہی تھی، اور میرے سالے سے گرما گرمی میں بات ہاتھا پائی تک پہنچنے والی تھی کہ میں نے کہا اگر میری گھر والی ایسا کرے گی تو میں اسکو طلاق دیدونگا، میرے سالے نے کہا یہ دھمکی کسی اور کو دینا، میں اور غصے میں آگیا اور اسکی یہ بات مجھے بڑی ناگوار گزری، تو پھر میں نے کہا کہ"میں تیری بہن کو طلاق دیتا ہوں" اور یہ الفاظ میں نے تین دفعہ کہے، اور پھر میں بائیک پر بیٹھ کر اپنے گھر کی طرف نکل گیا، اب میری بیوی کی عدت دو ماہواریاں گزر چکی ہیں تو آپ بتائیں کہ اس کا کیا حل ہے ؟ جبکہ میں، میری بیوی اور میرے بچے ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں، اس بارے میں رہنمائی فرمائیں، بڑی عین نوازش ہوگی۔
واضح ہوکہ غصے کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذا سائل نے جب اپنے سالے کے ساتھ لڑائی جھگڑے کے نتیجہ میں غصہ میں آکر مذکور الفاظ"میں تیری بہن کو طلاق دیتا ہوں" تین بارکہہ دیے ، تواس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور حلالۂ شرعیہ کےبغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہےکہ عورت ایامِ عدت گزارنےکےبعدبغیرکسی شرط کےکسی دوسرےشخص سے اپنا عقدِ نکاح کرے،چنانچہ وہ دوسراشخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری(جوکہ حلالۂ شرعیہ کےلئےضروری ہے)کےفوراً بعدیاازدواجی زندگی کےکچھ عرصہ بعدطلاق دیدےیاطلاق تونہ دے،مگراس کابیوی سےپہلےانتقال ہوجائے،توبہرصورت اسکی عدت گزارنےکےبعداگروہ پہلےشوہرکےنکاح میں آناچاہےاورپہلاشوہربھی اسےرکھنےپررضامندہو،تونئےحق مہرکےتقررکےساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکےباہم میاں بیوی کی حیثیت سےزندگی بسرکرسکتےہیں،تاہم حلالہ اس شرط کیساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کےبعدبیوی کوطلاق دیگا،تاکہ زوجِ اول دوبارہ اس کےساتھ عقدِ نکاح کرے , یہ مکروہِ تحریمی ہے،اوراس پرحدیث میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں،لہذایسے حلالہ سے احتراز لازم ہے،البتہ بلاشرط ایساکرنا بلاشبہ جائزاوردرست ہے۔
کما فی الھندیۃ: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج رجل قال لامرأته أنت طالق أنت طالق أنت طالق فقال عنيت بالأولى الطلاق وبالثانية والثالثة إفهامها صدق ديانة وفي القضاء طلقت ثلاثا كذا في فتاوى قاضي خان الخ (ج1 صـ355 الباب الثانی ط: دار الفكر)۔
وفی الھدایۃ: وان کان الطلاق ثلاثا فی المرأۃ أو ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا ویدخل بھا ثم یطلقھا او یموت الخ(ج2صـ92 کتاب الطلاق ط: انعامیۃ)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0