کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ عید گاہ کی زمین پر کسی نے غلطی سے دو قبریں بنا لی ہیں ، ان قبروں کا کیا حکم ہے ؟ مقامی مفتی صاحب نے ان قبروں کے بارے میں کہا کہ ان کو قبرستان منتقل کریں یا زمین کے ساتھ ہموار کریں لیکن قبر والوں نے مفتی صاحب کی بات کو ماننے کے بجائے ان کی توہین شروع کی ہے ، اب ان دو قبروں کو باقی رہنے دیا جائے یا نہیں ؟
واضح ہوکہ وقف قبرستان کے علاوہ کسی کی ذاتی زمین میں اس کی اجازت کے بغیر تدفین کرنا یا کسی دوسری موقوفہ زمین میں متعلقہ مجاز آفیسر اور ذمہ دار شخص کے بغیر تدفین کرنا درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں عیدگاہ کی زمین میں تدفین کرنا درست نہیں تھا، تاہم اب اگر کمیٹی کے افراد یا متعلقہ ذمہ دارا ن قبروں کی منتقلی کا حکم دیں تو ایسی صورت میں اگر میت کی ہڈیاں وغیرہ بوسیدہ نہ ہوئی ہوں تو مذکور میتوں کو عام قبرستان منتقل کرنا ورثاء پر لازم ہے۔
کما فی الدر المختار:(ولا يخرج منه) بعد إهالة التراب (إلا) لحق آدمي ك (أن تكون الأرض مغصوبة أو أخذت بشفعة) ويخير المالك بين إخراجه ومساواته بالأرض كما جاز زرعه والبناء عليه إذا بلي وصار ترابا زيلعي الخ(مطلب فی دفن المیت،ج2،ص237،ط:سعید)۔
وفیہ ایضاً:شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة الخ
وفی رد المحتار تحت:(قوله: قولهم شرط الواقف كنص الشارع) في الخيرية قد صرحوا بأن الاعتبار في الشروط لما هو الواقع لا لما كتب في مكتوب الوقف، فلو أقيمت بينة لما لم يوجد في كتاب الوقف عمل بها بلا ريب لأن المكتوب خط مجرد ولا عبرة به لخروجه عن الحجج الشرعية(مطلب استأجر دارا فيها أشجار،ج4،ص433،ط:سعید)۔