کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میری چھوٹی بہن مسماۃ ”اقراء بنتِ طاہر شاہ “ کو اس کے شوہر ”اسد خان ولد مرزا عالم“ نے رخصتی سے قبل تین مرتبہ زبانی یہ الفاظ کہے کہ ” میری طرف سے آزاد ہے “ اور اسٹامپ پیپر پر بھی دستخط کیے ہیں، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں؟ان کے درمیان کوئی خلوت بھی نہیں ہوئی ہے۔
سائل کے بہنوئی مسمٰی ”اسد اللہ “نے نکاح کے بعد خلوتِ صحیحہ سے قبل اپنی بیوی مسماۃ ” اقراء “ کو زبانی طور پر الفاظِ طلاق ”میری طرف سے آزاد ہے“ تین بار کہہ دیے ہوں اور اس کے بعد منسلکہ اسٹامپ پیپر پر دستخط بھی کر دیے ہوں تو اس صورت میں سائل کی بہن پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو کر میاں بیوی کا نکاح ختم ہو چکا ہے،جبکہ بقیہ طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہیں،نیز سائل کی بہن بنا عدت گزارے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی الشامیۃ تحت: (قولہ حرام) من حرم الشيء بالضم حراما امتنع (إلی قولہ) فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا اھ (ج3،صـــ299،ط:سعید)۔
وفیھا أیضاً تحت: (قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب (إلی قولہ) وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب: إذا جاءك كتابي فأنت طالق فجاءها الكتاب فقرأته أو لم تقرأ يقع الطلاق كذا في الخلاصة ط ( ج 3، صـــ246، ط: سعید)۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: والأصل الذي عليه الفتوى في زماننا هذا في الطلاق بالفارسية أنه إذا كان فيها لفظ لا يستعمل إلا في الطلاق فذلك اللفظ صريح يقع به الطلاق من غير نية إذا أضيف إلى المرأة اھ (ج1،صـــ379،ط:ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: رجل تزوج امرأة نكاحا جائزا فطلقها بعد الدخول أو بعد الخلوة الصحيحة كان عليها العدة كذا في فتاوى قاضي خان. لو كان النكاح فاسدا ففرق القاضي إن فرق قبل الدخول لا تجب العدة اھ (ج1،صـــ526،ط:ماجدیۃ)۔
وفی الھدایۃ: فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق لأن كل واحدة إيقاع على حدة إذا لم يذكر في آخر كلامه ما يغير صدره حتى يتوقف عليه فتقع الأولى في الحال فتصادفها الثانية وهي مبانة اھ (ج2، صـــ 71، ط: انعامیہ)۔