جب ہماری شادی ہوئی تو میری بیوی کو میرے رشتہ داروں نے رضامندی کے ساتھ کچھ سونے کے تحائف دیئے، میری بیوی نے میری والدہ کو ان میں سے کچھ تحائف دیئے، میں اور میری بیوی کچھ تنازعات کی وجہ سے طلاق کے دہانے پر ہیں، میرے والدین طلاق کی صورت میں وہ تحائف دینے پر رضامند نہیں ہیں، کیا آپ شرعی حکم کے مطابق بیان فرمائیں گے؟
سائل کے قریبی رشتہ داروں نے سائل کی بیوی کو شادی کے موقع پر جو تحائف دئیے ہیں، وہ سائل کی بیوی کی ملکیت ہے، جبکہ سائل نے سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ سائل کی بیوی نے وہ تحائف ساس کو بطور عاریت (استعمال کے طور پر) دئیے ہیں یا بطور ہبہ (گفٹ) کے دیئے ہیں، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، البتہ اگر سائل کی بیوی نے ان تحائف میں سے کچھ تحائف اپنی ساس کو بطور عاریت کے(استعمال کیلئے) دئیے ہوں باقاعدہ مالکانہ طور پر نہ دئیے ہوں، تو سائل کی والدہ ان زیورات وغیرہ کی مالک نہیں بنی، لہٰذا طلاق کی صورت میں بیوی کے مطالبے پر مذکور تحائف اس کو واپس کرنا شرعاً لازم ہے، تاہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو سوال مکمل تفصیل کے ساتھ لکھ کر دوبارہ ارسال کردیں، انشاءاللہ غور و فکر کے بعد حکم شرعی سے آگاہ کردیا جائے گا۔