میرے کزن نے اپنی بیوی کو فون پر سات دفعہ طلاق اس حالت میں کہا جب وہ نیم نشے کی حالت میں تھا،اس کی بیوی نے ایک دفعہ سنتے ہی فون بند کردیا،اب سوال یہ ہے کہ کیا طلاق واقع ہوگئی اور کیا ایک ہی واقع ہوئی یا تینوں ہوگئیں؟
نوٹ: سائل نےفون پر بتایا کہ ان الفاظ کے ساتھ"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"سات مرتبہ طلاق دی ہے۔
واضح ہو کہ غصے اور نشے کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے ، لہٰذا سائل کے کزن نے جب فون پر اپنی بیوی کو مذکورالفاظ کے ساتھ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" سات مرتبہ طلاق دے دی ہیں، تو اس سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، اور باقی طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوچکی ہیں،اب رجوع نہیں ہوسکتا ، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے ، جبکہ عورت عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
قال اللہ تعالٰی : فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ ( سورۃ البقرۃ آیت230)۔
و فی احکام القرآن للجصاصؒ: ( فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ) فحکم بتحریمھا علیہ بالثالثۃ بعد الاثنین و لم یفرق بین ایقاعھما فی طھر واحد او فی اطھار فوجب الحکم بایقاع الجمیع علی ایّ وجہ اوقعہ الخ (ج1 ص386 ط: سھیل اکیڈیمی لاھور باکستان ) ۔
وفی رد المحتار تحت (قوله وأهله زوج عاقل إلخ) احترز بالزوج عن سيد العبد ووالده الصغير، وبالعاقل ولو حكما عن المجنون والمعتوه والمدهوش والمبرسم والمغمى عليه، بخلاف السكران مضطرا أو مكرها الخ (ج3 ص230 کتاب الطلاق،اھل الطلاق ط: سعید)۔