مجھے ہوا خارج ہوتی ہے باربار ، کبھی تو 3,2 دن صحیح سے نماز ہوجاتی ہے مگر پھر ہوا خارج ہونا شروع ہوجاتی ہے،جس کی وجہ سے 4,3 دفعہ وضو کرنے کے بعد بھی ہوا نکلتی رہتی ہے۔ میں ہر نماز کا نیا وضو کرتی ہوں اس مسئلہ کی وجہ سے، لیکن کیا ہر نماز کا نیا وضو کرنا کافی ہے؟ اس کی وجہ سے میں سکون سے نماز نہیں پڑھ پاتی۔
سائلہ کو خروجِ ریح (ہوا خارج ہونے) کا مسئلہ اگر اس قدر زیادہ نہ ہو کہ جسکی وجہ سے نماز کے پورے وقت میں پاکی کیساتھ فقط فرض نماز پڑھنے کا وقت بھی میسر نہ ہو ، بلکہ کچھ وقت کے لئے خارج ہوتی ہو ، تو ایسی صورت میں سائلہ شرعاً معذور شمار نہ ہو گی، بلکہ سائلہ کو چاہیئے کہ نماز سے کچھ دیر پہلے قضاء حاجت سے فارغ ہو کر وضوء کرے اور باوضوء نماز پڑھنے کا اہتمام کرے ، البتہ اگر سائلہ کو یہ عذر اس قدر لاحق ہوکہ اس بیماری کے دوران کسی بھی نماز کے پورے وقت میں عذر کے تسلسل کی وجہ سے سائلہ کو اتنا وقت بھی نہ ملےجس میں کامل طہارت کے ساتھ وہ وقتیہ فرض نماز ادا کر سکے ، تو اس صورت میں سائلہ شرعاً معذور کے حکم میں داخل ہو جائیگی، اور تفصیل اس حکم کی یہ ہے کہ مثلاً ادائیگیِ ظہر کیلیے وہ ظہر کے شروع وقت سے اخیر وقت تک انتظار کرے ، اگر اسے اس دوران اتنا وقت نہ ملے کہ وہ کامل طہارت کے ساتھ نماز ظہر ادا کر سکے تو عصر کا وقت داخل ہونے سے قبل ظہر کے اخیر وقت میں وضو کر کے فقط فرض نمازِِ ظہر ادا کرے، اسکے بعد نماز عصر کی ادائیگی کیلیے پورا وقت انتظار کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ وضوء کر کے نمازِِ عصر ادا کر لے اس دوران اگر ہوا خارج ہوتی رہے، تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا، اسی طرح مغرب و عشاء میں بھی وہ ایسا ہی کرے ، کہ ہر نماز کے لئے الگ الگ وضو کر لیا کرے، اس پورے وقت میں اگر اسکے علاوہ کوئی دوسرا ناقض وضوء نہ پایا گیا، تو مذکور عذر کے بار بار صادر ہونے سے سائلہ کا وضو نہیں ٹوٹے گا، البتہ اس دوران اگر پورا وقت نماز کوئی ایسا گزر جائے کہ اس پورے وقت میں یہ عذر سائلہ کو ایک مرتبہ بھی لاحق نہ ہوا ہو تو شرعاً وہ معذور نہیں رہے گی، اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ کر اسکے موافق عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
کما فی الدر المختار: (وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة)بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل.(وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه الخ (ج 1 ص 305 ط:سعید)۔