ایک صاحب نے خدمتِ خلق کے لئے ایک جماعت قائم کی،جس کا مقصد غریب اور مستحق مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے سکول، ڈسپنسری وغیرہ قائم کرنا تھا،ان صاحب کی دیانتداری اور ان سے محبت کے سبب لوگوں نے ان کیساتھ مالی تعاون کیا اور یہ منصوبے قائم ہوگئے،ان صاحب نے نہایت ایمانداری اور جانفشانی کیساتھ اس کام کو بڑھایا اور تمام معاونین کو ہر قسم کا حساب دیتے رہے۔ چونکہ تمام لوگوں کو ان صاحب پر ایمان کی حد تک یقین تھا اس لئے جو بھی ادارہ قائم ہوا اسکی ملکیت ان صاحب کے نام کروادی گئی، کچھ لوگوں کے سوالات کی وجہ سے ان صاحب نے کئی بار اپنی اولاد کے سامنے یہ اعلان کیا اور سادہ کاغذ پر ایک تحریر لکھ دی کہ یہ تمام منصوبے فلاحِ عامہ کے لئے قائم کیے گئے ہیں جو انکی وفات کے بعد بھی اسی طرح چلتے رہیں گے اور میری اولاد اس کی وارث نہیں ہوگی، اور ان منصوبوں کا انتظام چلانے کے لئےایک کونسل قائم کردی جس نے کامیابی سے یہ تمام منصوبے نہ صرف چلائے بلکہ انکو ترقی دینے کیساتھ ساتھ ان میں اصافہ بھی کیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نہ تو انکی اولاد نے ان منصوبوں میں کوئی مالی معاونت کی اور نہ ان صاحب نے اپنی اولاد میں سے کسی کو ان منصوبوں کا چلانے والی کونسل کا حصہ یا رکن بنایا،پھر کچھ عرصہ بعد ان صاحب کا انتقال ہوگیا تو انکی اولاد نے وراثت کا دعویٰ کردیا کہ چونکہ یہ سب ہمارے والد کے نام ہے اس لئے اب ہمارا ہے اور ہم اب یہ بیچ کر رقم آپس میں تقسیم کریں گے، جب انکو انکے والد کی وصیت یاد کروائی گئی تو انہوں نے ماننے سے انکار کردیا کہ زبانی یا سادہ کاغذ کی وصیت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں جبکہ قانونی طور پر انکے والد کے نام جو کچھ بھی ہے انکے بعد اب وہ یعنی اولاد اسکی قانونی وارث ہے۔ ان سے کہا گیا کہ وہ پراپرٹی جو جماعت قائم کرنے سے پہلے ان صاحب نے خود بنائی تھی یا جو انکی وراثتی جائیداد ہے آپ صرف اسکے وارث ہیں لیکن اخلاقی طور پر جماعت کے تعاون سے قائم کی گئی پراپرٹی کے آپ وارث نہیں تو وہ اس بات کو ماننے سے انکاری ہیں ۔ اس وجہ سے مفاد ِعامہ کا تمام جاری کام رک گیا بلکہ تمام معاونین بد دل ہوگئے اور انہوں نے ہاتھ بھی کھینچ لیا ہے۔ اس وجہ سے ایک متنازعہ صورت حال پیدا ہوچکی ہے،سوال یہ ہے کہ ایسی وراثت اور یہ بات کرنے والے وارثان کے لئے کیا حکم ہے؟
واضح ہوکہ کسی چیز کو فقط کاغذات کی حد تک نام کردینے سے وہ شخص شرعاً اس چیز کا مالک نہیں بنتا بلکہ ملکیت کے تحقق کے لئے دیگر شرائط کا پایا جانا بھی ضروری ہے، لہذا صورتِ مسؤلہ میں مذکور جائیداد چونکہ فقط انتظامی طور پر مرحوم شخص کے نام منتقل کردی گئی تھی، جبکہ حقیقی طور پر وہ ٹرسٹ ہی کی ملکیت تھی ، جس کی وضاحت (سائل کے بیان کے مطابق)مرحوم شخص نے زبانی و تحریری طور پر اپنی زندگی میں بھی کردی تھی، اس لئے ٹرسٹ کے نام پر خریدی گئی پراپرٹی شرعاً مرحؤم کی ملکیت نہیں تھی اور نہ ہی اس میں وراثت کےاحکام جاری ہوں گے بلکہ حسب ِسابق ٹرسٹ کی ملکیت ہوکر رفاہی امور میں اس کا استعمال کرنا شرعاً لازم اور ضروری ہے، لہذا مرحوم شخص کی اولاد کا اس جائیداد میں وراثت کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں، ورنہ وقف املاک پر ملکیت کا دعویٰ کرنے اور رفاہی امور کے جاری رہنے میں رکاوٹ بننے کی وجہ سے عنداللہ گناہ گار ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے بھی مجرم قرار پائیں گے، اس لئے انہیں اپنے اس غیر شرعی طرز ِعمل سے اجتناب کرکے وقف املاک کو جلد از جلد متعلقہ کونسل کے حوالہ کرکے مواخذۂ دنیوی واخروی سے سبکدوشی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔
کما فی رد المحتار: لأن التركه فی الاصطلاح ما ترکہ الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال الخ(کتاب الفرائض، ج6،ص759،ط: سعید)۔