اگر کسی مرد کے بال لمبے ہوں، تو کیا اس کے لیے ”ہیڈ بینڈ“ پہننا جائز ہے ؟بعض لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ لڑکیوں سے مشابہت کی وجہ سے ناجائز ہوگا ،لیکن اگر کوئی مشابہت نہ ہو اور کسی لڑکی کی طرح نہ لگتا ہو تو کیا حکم ہے ؟اور اگر لمبے بالوں والا شخص کھیل رہا ہو تو وہ اپنے بالوں کی حفاظت کیسے کرے کیا وہ اپنے بالوں کو باندھ سکتا ہے اگر اس سے لڑائی جھگڑے یا دیگر حالات میں پریشانی ہو تو کیا وہ بال باندھ سکتا ہے؟ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی موقع پر بال باندھے؟ آخر میں کیا حکم ہے ،اس نوجوان 18( سالہ لڑکے) کے لیے اس کے لمبے بال (زلف ) ہوں ،لیکن داڑھی نہ ہو (کیونکہ ابھی آئی نہیں)اکابرین (بزرگانِ دین اسے پسند نہیں کرتے اور اس کے پیچھے کیا حکمت ہے؟ براہِ کرم مختصر اور واضح طور پر جواب عنایت فرمائیں ۔
مردوں کے لیے مسنون طریقہ کے مطابق اس شرط کے ساتھ بال بڑھانا جائز ہے کہ تمام سر کے بال برابر رکھے جائیں، کہیں سے کم زیادہ نہ ہو ں،اور یہ بال کانوں کی لو تک ،کانوں اور کندھوں کے درمیان تک، یا کندھوں تک ہوں، اس سے زائد بال اس طرح بڑھانا کہ عورتوں کی مشابہ ہو جائے جائز نہیں ،نیزبالوں کی حفاظت کی غرض سے بالوں کو یوں سمیٹنا یا باندھنا کہ عورتوں کے مشابہ کو ئی ھئیت بن جائے جسے (پونی وغیرہ باندھنا )شرعا درست طرز عمل نہیں، البتہ بالوں کی حفاظت کی خاطر” ہیڈ بینڈ“ استعمال کرنا یا اس کے علاوہ کوئی ایسا طریقہ اختیار کرنا جو عورتوں کی ھیئت سے مشابہ نہ ہو شرعا ًاس کی اجازت ہے ۔ جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بالوں کو غبار آلود اور پراگندہ ہونے سے بچانے کے لیے بالوں کو گوندنا یا اس جیسی چیز کے ذریعے چپکانا ثابت ہے، تاکہ بال منتشر ہو کرپرا گندہ نہ ہوں۔
جبکہ اکابرین کا بےریش لڑکوں کے لئے بڑے بال رکھنے کی ممانعت باعثِ فتنہ ہونے کی وجہ سے ہو سکتا ہے ، البتہ اگر کسی جگہ فتنہ اور فساد کا اندیشہ نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔
کما فی صحیح البخاری: عن سالم عن أبیہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یھل ملبدا ( باب من اھل ملبدا ج: 1، ص: 812، ط: بشری)۔
و فی سنن ترمذی عن أنس بن مالک قال کان شعر رسول اللہ ﷺ إلی نصف أذنیہ ( باب ما جاء فی شعر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ج: 2، ص: 126، ط: بشری)۔
و فیہ أیضا: عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت کنت أغتسل أنا ورسول اللہ من إناء واحد و کان لہ شعر فوق الجمۃ دون الوفرۃ)( باب ما جاء فی شعر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ج: 2، ص: 126، ط: بشری)۔
و فیہ أیضا: عن البراء بن عازب قال کان رسول اللہﷺ مربوعا بعید ما منکلبین و کانت جمتہ تضرب شحمتہ أذنیہ ( باب ما جاء فی شعر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ج: 2، ص: 126، ط: بشری)۔
کما فی الدر الختار: (و عقص شعره )لنھی عن كفه ولو بجمعه او ادخال اطرافه في اصوله قبل الصلاالخ۔
وفي الشاميۃ تحت: (قوله وعقص شعره الخ اي ضفره وفتله والمراد به ان يجعله على هامته ویشده وبضمغ او ان يلف ذوائبه حول راسه كما يفعله النساء في بعض الاوقات او يجمع الشعر كله من قبل القفاء ويشده بخيط او خرقه كي لا يصيب الارض اذا سجد وجميع ذلك مكروه الخ ( باب ما یفسد الصلوۃ و ما یکرہ فیھا،ج: 1، ص:642، ط: سعید)۔