کیا فر ماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں ،کہ میرے بھائی مسمیٰ میر محمد نے اپنی منکوحہ بیوی مسماۃشیمیٰ کو فون پر تین طلاق دی تھی ، کہ شیمی تم مجھ پر طلاق ہو "شیمی تہ پہ ما طلاق یے"اس کے بعد دونوں میاں بیوی ایک دوسرے سے الگ رہے ، کیونکہ میر محمد ملک سے باہر تھے ، واپس آنے کے بعد میر ی والدہ کے اصرار پر میں نےاپنے بھائی کی مطلقہ بیوی سے گواہوں کے موجودگی میں نکاح کیا ، اور بغیر ہمبستری کے ایک گھنٹےکے بعد میں نے طلاق دیدی "تہ پہ ماباندی طلاق یے "پھر ایک ہفتے کے بعد میرے بھائی نے اس خاتون سے نکاح کیا ، اب معلوم کرنا ہے ، میرا اس طرح نکاح کرنا جائز تھا کہ نہیں ،اور اس کے بعد میرے بھائی نے جو نکاح کیا وہ جائز تھا کہ نہیں ؟کیا اس کی وجہ سے میں بھی گناہ گار ہواہوں ؟ اور اب ان کے لئے کیا حکم ہے ؟کیا وہ ساتھ رہ سکتے ہیں یا ان کی جدائی لازم ہے ؟ اور میری پریشانی بیماری کا سبب تو یہ نہیں ؟ جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں ۔
سائل کے بھائی نے اگر واقعۃً اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدی ہو ں اور پھر عدت گزر نے کے بعد سائل نے بغیر کسی شرط کے اس کے ساتھ شرعی طریقے کے مطابق نکاح کر لیا ہو ،تو اس کی وجہ سے اگر چہ سائل گناہ گار نہ ہو گا، تاہم اگر سائل نے ازدواجی تعلق قائم کرنے سے قبل بیوی کو طلاق دیدی ہو ، تو ایسی صورت میں سائل کے بھائی کے لئے اپنی مطلقہ بیوی کیساتھ دوبارہ نکاح کرنا شرعاًجائز نہیں تھا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے فوراًعلیحدگی اختیار کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، اور اب تک میاں بیوی کی طرح جتنا عرصہ ایک ساتھ گزارچکے ہیں اس پر بصدق دل تو بہ واستغفارکریں۔
کمافی الھندیۃ:وان کان الطلاق ثلاثاًفی الحرۃوثنتین فی الامۃ، لم تحل لہ حتیٰ تنکح زوجاًغیرہ نکاحاًصیححاًویدخل بھا ثم یطلقھا أویموت عنھا ، کذا فی الھدایہ (الباب السادس فی الرجعۃ ، فصل فیماتحل بہ المطلقہ ج1 ص473 ط:ماجدیہ)۔
وفی ردالمحتار:تحت قولہ (فلاعدۃفی باطل)أما نکاح منکوحۃ الغیرومعتدتہ،فالدخول فیہ لایوجب العدۃان علم انھا للغیر ، ویجب الحدمع العلم بالحرمۃ لکونہا زنا، کذا فی القنیۃ وغیرھا اھ(مطلب فی النکاح الفاسد والباطل باب العدۃج 3 ص516 ط:سعید)۔