کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیا ن عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :
ایک طویل عرصہ سے ہمارے چچا کے گھرانہ کو ناگہانی مصائب و مشکلات کا سامنا ہے، اس طور پر کہ اولا تو کرونا کے دوران اسکے ایک بیٹے کا انتقال ہوا، اس کے بعد فروری ۲۰۲۳ء کو مختصر علالت کے بعد جوان عمر دوسرے بیٹے کا ناگہانی انتقال ہوا ، اب تقریبا دو ہفتہ قبل میرے چچا کا بھی اچانک انتقال ہوا، جسکی وجہ سے میرے مرحوم چچا کی اولاد اور اہلیہ اب مسلسل ہمیں اور دیگر چچا زاد کو مورد الزام ٹہراتے ہیں کہ ہم نے عملیات ، جادو وغیرہ کے ذریعہ سے انکے گھر کو خراب کیا ہے، اور مسلسل ہم پر الزامات لگاتے رہتے ہیں جسکی وجہ سے ہمیں کافی دکھ ہوتا ہے، جبکہ ہم عملیات یا کسی بھی قسم جادو وغیرہ سے یکسر ناواقف ہیں، اور حلفیہ کہتے ہیں کہ ہمارا اس طرح کسی بھی کام سے کوئی تعلق نہیں، لہذا میرا سوال یہ ہے کہ جو لوگ ہم پر یہ الزام لگارہے ہیں انکے ساتھ کیا رویہ رکھنا چاہئیے ، اور انکو ہمارے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیئے؟
واضح ہوکہ موت وحیات اللہ رب العزت کے قبضہ قدرت میں ہے اسی طرح مصائب و آفات کا آنا بھی اللہ تعالی کی طرف سے اپنے بندے کیلیے امتحان اور آزمائش ہوتی ہے، جس پر بندے کو صبر کرنا چاہیئے ، لہذا سائل کے مرحوم چچا کے گھر والو ں کا قدرتی مصائب کا ذمہ دار سائل اور اسکے دیگر چچازاد کو قرار دینا اور ان پر جادو ٹونا کرانے کا الزام لگانا شرعا جائز نہیں، بلکہ وہ ان مصائب کو اللہ تعالی کی طرف سے امتحان سمجھ کر صبر کریں بلاوجہ الزامات اور توہمات سے اجتناب کریں ۔
جبکہ سائل کو بھی چاہیئے کہ غم کی اس گھڑی میں مرحوم چچا کی فیملی کا ساتھ دیں ، اور صلہ رحمی کے پیش نظر انکی باتوں سے دل برداشتہ ہونے کی بجائے صبر کا مظاہرہ کریں ، اور وقتا فوقتا انکو نرمی کے ساتھ سمجھانے کی کوشش بھی کیا کریں ، امید ہے کہ ان شاءاللہ جلد ہی انکا رویہ سائل اور دیگر اہل خانہ کے ساتھ درست ہوگا ۔