السلام علیکم! شوہر نے اپنے گھر سے تین دن تک رابطہ کرنے کے باوجود اپنی بیوی سے رابطہ نہیں ہوا، تیسری رات اپنے والد اور بھائی کے ساتھ آکر تحریری اسٹامپ پیپر پر طلاق نامہ اور اپنی بیوی سے 31/01/2024 کو اس طرح 3 مرتبہ کہا کہ " میں نے تمہیں Divorce دی ، Divorce دی، Divorce دی " اور کہا کہ 3 دن میں یہ فلیٹ چھوڑ دو، اور اپنا سامان لے جاؤ، ایک بیٹا ہے جو کہ آٹھ ماہ کا ہے، اب یہ طلاق ہوگئی ہے یا کوئی گنجائش ہے؟ نان و نفقہ کا کیا حکم ہے؟ اور بیوی کو جو گفٹ / منہ دکھائی شادی پر ملی ہے اسکا شرعی حکم اور بچے کے لئے کیا حکم ہے؟ لڑکی دیوبند مسلک کی ہے جبکہ لڑکا اہلحدیث مسلک کا ہے، قرآن و حدیث کی روشنی میں ہمیں کیا کرنا ہے ؟اس معاملہ میں فتوٰی دیں۔
نوٹ! لڑکی کا نام سحر ہے جبکہ طلاق نامہ میں Spelling سِحر لکھی ہوئی ہے، اور لڑکی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کررہی ہے، کیا عدت کے دوران یونیورسٹی جا کر کلاس لے سکتی ہے مکمل پردہ کے ساتھ؟ اگر یہ سیمسٹر نکل گیا تو اس کی Study رک جائے گی، نیا ایڈمیشن لینا پڑے گا، کیونکہ پہلے بھی فرسٹ سیمسٹر رہ گیا ہے بچہ کی پیدائش کے دوران، اگر ہمارے دین میں اس کی اجازت ہے کہ پردہ میں کلاسز لے سکتی ہے تو ہمیں گائیڈ کریں۔
صورتِ مسئولہ میں نکاح و رخصتی کے بعد جب شوہر نے مذکور الفاظ " میں نے تمہیں Divorce دی ، Divorce دی، Divorce دی" کے ذریعہ اپنی بیوی کو طلاق دیدی ہےتو ان الفاظ سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا،اور عورت ایامِ عدت گزر جانے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے جبکہ لڑکے کی عمر سات سال ہونے تک اس کی پرورش کی زیادہ حقدار اس کی ماں ہے، بشرطیکہ اس دوران وہ بچے کے کسی غیر ذی رحم سے نکاح نہ کرے، اسی طرح دورانِ عدت مطلقہ بیوی شوہر کے گھر یا شوہر کی اجازت سے میکے میں عدت گزار رہی ہو تو عدت کا نفقہ بھی شوہر پر لازم ہوگا اور اگر شوہر کی اجازت کے بغیر از خود میکے میں جا کر عدت گزار رہی ہو تو پھر عدت کا نفقہ شوہر پر لازم نہیں ہوگا، تاہم نکاح اور رخصتی کے موقع پر لڑکے کی طرف سے جو تحفے اور منہ دکھائی وغیرہ بیوی کو دیئے تھے وہ سب بیوی کی ملکیت ہے، اب طلاق کی صورت میں شوہر کے لئے اس کی واپسی کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، جبکہ عدت کے دوران شدید عذر یا کسی واقعی مجبوری کے بغیر گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں ، لہٰذا جب تک عدت مکمل نہ ہوجائے، تب تک کلاس کے لئے نکلنا جائز نہیں ہے۔
قال اللہ تعالی: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ
وکما فی الھندیۃ: وإذا قال لإمرأتہ أنت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً و إن کانت غیر مدخولۃ طلقت واحدۃ و کذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق الخ ( الباب الثانی فی ایقاع الطلاق ج ۱ ص ۳۵۵ ط: ماجدیہ)۔
و فیھا ایضاً: وإن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا الخ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ج ۱ ص ۴۷۳ ط: ماجدیہ) ۔
و فیھا ایضاً: أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي. سواء لحقت المرتدة بدار الحرب أم لا، فإن تابت فهي أحق به كذا في البحر الرائق. وكذا لو كانت سارقة أو مغنية أو نائحة فلا حق لها ( الی قولہ) وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة، وإن علت، فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها، وإن علت كذا في فتح القدير الخ ( الباب السادس ج 1 ص 541 ط: ماجدیہ)۔
و فیھا ایضاً: ولا یتم الھبۃ الا مقبوضۃ الخ ( کتاب الھبۃ، ج 4 ص 377 ط: ماجدیہ)۔
و فی الدر المختار: (وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرحان منه (إلا أن تخرج، أو يتهدم المنزل أو تخاف) انهدامه الخ ( کتاب الھبۃ ج 4 ص 377 ط: ماجدیۃ)۔