کیا ایک طلاق دینے سے طلاق ہو جاتی ہے ؟
جی ہاں ! ایک طلاق دینے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے ، چنانچہ اگر ایک طلاق صریح الفاظ میں دی گئی ہو اور اس سے قبل میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلق قائم ہوا ہو تو ایسی صورت میں یہ طلاق رجعی کہلاتی ہے ، جس کا حکم یہ ہے طلاق کے بعد عدت گزرنے سے پہلے شوہر کو رجوع کرنے کا اختیار ہوتا ہے ، اگر شوہر عدت گزرنے سے پہلے رجوع کرے تو نکاح حسبِ سابق برقرار رہے گا ، لیکن اگر شوہر عدت گزرنے سے پہلے رجوع نہ کرے تو عدت پوری ہوتے ہی نکاح ختم ہو جائے گا ، اس کے بعد رجوع نہیں ہو سکتا ، البتہ اگر دونوں میاں بیوی دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لئے باہمی رضامندی سے نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں تجدید نکاح لازم ہوگا ، بہر دو صورت شوہر کے پاس آئندہ کے لئے صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا ۔
کما فی الدر المختار: وتصح مع إكراه وهزل ولعب وخطإ (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة الخ(باب الرجعۃ ، ج 3 ، ص 398 ، ط: سعید) ۔
وفیہ ایضاً: وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب الخ ( باب الرجعۃ ، ج 3 ، ص 409 ، ط" سعید) ۔