کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی والد اپنی زندگی میں اپنی جائیداد وغیرہ باقاعدہ تقسیم اور مالکانہ قبضہ کے ساتھ اپنے بیٹو ں کو دیدے تو وہ ایسا کرسکتاہے یا نہیں؟اور اگر کسی والد نے اس طرح تقسیم کردی ہو تو بعد میں بہنوں کا اس جائیداد میں بھائیوں سے مطالبہ کرنے کا کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاء ہونے سے قبل اپنی جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ جس طرح چاہے اس میں جائز تصرفا ت کر سکتا ہے،اس پر اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کرنا شرعاً لازم نہیں اور نہ ہی اولاد کو مطالبہ کاحق حاصل ہے،البتہ اگر والد بخوشی اپنی جائیداد تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً یہ ہبہ کہلائیگا اور ہبہ میں بہتر یہ ہے کہ تمام اولاد میں برابری کی جائے،جبکہ بلاوجہ اولاد میں سے کسی کو کم یامحروم کرنا شرعاً درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے ،تاہم اگر کوئی والد اپنی زندگی میں بیٹوں کو جائیداد باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ دیدے تو شرعاً وہ اس کے مالک بن جائیں گے ،اس میں دیگر ورثاء کا شرعاً کوئی حصہ نہ ہوگا ،تاہم بلاوجہ ایسا کرنے کی وجہ سےوہ گناہ گار ہوگا ۔
کما فی ردالمحتار: فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى اھ (4/444)۔
وفی البحرالرائق: (قوله فروع) يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الھبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله لواحد جاز قضاء وهو آثم كذا في المحيط وفي فتاوى قاضي خان رجل أمر شريكه بأن يدفع إلى ولده مالا فامتنع الشريك عن الأداء كان للابن أن يخاصمه إن لم يكن على وجه الهبة اھ (7/288)۔