ترجمۃ:السلام علیکم!میرے والدصاحب کے بڑے بھائی (میرے تایا )نے اپنی زندگی میں اپنے چھوٹے بھائی (میرے والد صاحب )کو ایک فلیٹ دیاتھا، میرے والد صاحب کوشادی کرکے اسی گھر میں آباد کیاگیا ،اس بات کو پینتیس (35)سال کاعرصہ گزرچکا ہے،تایا نےمختلف مواقع پر والد صاحب کویہ بات بولتے رہے کہ اس فلیٹ کو اپنے نام کرالو مگر والد صاحب ہمیشہ انکی بات پے عمل نہیں کرسکے ،تایاابو کا انتقال 2013 میں ہوگیا تھا، اس فلیٹ کی ملکیت تایا کی نام پر رہ گئی ،میراسوال یہ ہے کہ اگر گواہوں کی موجودگی میں تایا نے وہ فلیٹ ابو کے نام کرنے کا بولا تھا تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟اور اب وہ کس کی ملکیت میں شمار ہوگا ، جزاک اللہ خیر ا۔
سوال میں ذکرکردہ بیان اگر واقعۃ درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس طور پر کہ سائل کے تایا مرحوم نے مذکور فلیٹ باقاعدہ مالکانہ قبضے کیساتھ سائل کے والد کو دیدیا تھا ، فقط عارضی طور پر نہیں دیا تھا اور بعد میں مرحوم نے باقاعدہ گواہوں کے سامنے اس کا اظہار بھی کیاتھا توایسی صورت میں مذکور فلیٹ اگرچہ کاغذات میں سائل کے تایا مرحوم کے نام ہے ،لیکن شرعاً سائل کاوالد مذکور مکان کامالک بن چکا ہے ، لہذا اب مذکور فلیٹ تایا مرحوم کاترکہ شمار نہ ہوگا ،بلکہ مذکور فلیٹ سائل کے والد کی ملکیت ہے اور وہ اسمیں اپنی مرضی سے تصرف کرسکتاہے ۔
کمافی الدرالمختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها اھ(3/690)