کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کےبارے میں کہ میرا نام عظمیٰ رانی ہے ، مجھے میرے شوہر نے نکاح کے بعد رخصتی اور خلوتِ صحیحہ سے قبل فون پر تین طلاقیں الگ الگ جملوں کےساتھ دی ہیں ، الفاظِ طلاق یہ ہیں” میں آپکو طلاق دیتا ہوں“ مگر اب ان کاکہنا ہے کہ اہل حدیث کے مطابق ہماری طلاق نہیں ہوئی ، اس حوالے سے وضاحت مطلوب ہے کہ آیا ہماری طلاق ہوئی ہے یا نہیں اور اب رجوع کی کوئی گنجائش موجود ہے؟
واضح ہو کو قرآن و سنت کی رو سے ایک ساتھ دی جانے والی تین طلاقیں تین ہی شمار ہوتی ہیں ، البتہ اگر شوہر رخصتی اور خلوتِ صحیحہ سے قبل بیوی کو الگ الگ کلمات کے ذریعے تین طلاقیں دیدیتاہے تو چونکہ پہلی طلاق سے ہی وہ عورت اجنبیہ بن جاتی ہے ، اس لئے بقیہ طلاقیں محل نہ ہونےکی وجہ سے لغو ہوجاتی ہیں،
لہذا سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی کمی بیشی سےکام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائلہ اور اس کے شوہر کے درمیان نکاح کےبعد کسی ایسی تنہائی میں ملاقات کا موقع میسر نہ آیا ہو کہ جس میں ہمبستری کرنے میں کوئی رکاؤٹ موجود نہ ہو اور پھر سائلہ کے شوہر نے علیحدہ علیحدہ جملوں کے ذریعے سائلہ کو موبائل فون پر تین طلاقیں دیدی ہوتو ایسی صورت میں چونکہ پہلے جملے ”میں آپ کو طلاق دیتا ہوں“ سے سائلہ پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوکر دونوں میاں بیوی کا نکاح ختم ہوچکاہے اور بقیہ طلاقیں محل نہ ہونےکی وجہ سے لغو ہوچکی ہیں ، چنانچہ اب رجوع نہیں ہوسکتا اور سائلہ عدت گزارے بغیر کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ، البتہ اگر دونوں میاں بیوی باہمی رضامندی سے ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لئے نئے حقِ مہر کےتقرر کے ساتھ شرعی گواہاں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا لازم اور ضروری ہوگا، تاہم تجدیدِ نکاح کی صورت میں آئندہ کےلئے سائلہ کے شوہر کےپاس دو طلاقوں کااختیار باقی رہے گا۔
کما فی الدر المختار: (وَإِنْ فَرَّقَ) بِوَصْفٍ أَوْ خَبَرٍ أَوْ جُمَلٍ بِعَطْفٍ أَوْ غَيْرِهِ (بَانَتْ بِالْأُولَى) لَا إلَى عِدَّةٍ (وَ) لِذَا (لَمْ تَقَعْ الثَّانِيَةُ)(286/3)۔
وفی الفتاوي الهندية: رجل تزوج امرأة نكاحا جائزا فطلقها بعد الدخول أو بعد الخلوة الصحيحة كان عليها العدة كذا في فتاوى قاضي خان ۔إن فرق قبل الدخول لا تجب العدة ،أربع من النساء لا عدة عليهن: المطلقة قبل الدخول.(ج:1،ص:579،580)۔