کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک قوم جس کا فرضی نام ”علی خیل“ہے، وہ اپنی قومی زمین میں سے کچھ حصہ قبرستان کیلئے وقف کرتے ہیں اور پوری قوم کی رضا مندی سے یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ہماری مشترکہ زمین کے اس مخصوص حصے میں صرف ہمارے ہی قبیلے یعنی ہماری ہی قوم کی میتوں کی تدفین ہوگی، اب اُس قبرستان کیلئے وقف شدہ زمین میں اسی قوم کے مرحومین کی قبریں بھی ہیں، لیکن یہ قوم اب چاہتی ہے کہ اس قبرستان کیلئے وقف شدہ اِس زمین کے ایک حصے پر مسجد تعمیرکریں، اب جواب طلب سوالات یہ ہیں کہ:
1۔ آیا زمین کے کچھ حصے کو فقط ایک قوم یا ایک قبیلےکی قبروں کیلئے وقف کرنا درست ہے، بایں طور کہ اس قبرستان میں مخصوص قوم کے افراد کے علاوہ کسی دوسرے شخص کی تدفین نہیں ہوگی؟
2۔ آیا قبرستان کیلئے وقف شدہ زمین کے کچھ اضافی حصے پر قوم کی رضامندی سے مسجد بنوانا درست ہے ؟
واضح ہو کہ واقف کو وقف کرتے وقت یہ اختیار ہوتا ہے کہ موقوفہ چیز کی جہت وغیرہ متعین کرلے یا موقوف علیھم کی تعیین کر دے، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں اگر واقفین نے قبرستان کیلئے زمین وقف کرتے وقت اپنی برادری کے لوگوں کی تعیین کر دی ہو تو ایسی صورت میں واقفین کی منشاء کے مطابق فقط مذکور قبیلہ کے مردوں کو وہاں دفن کرنے کی اجازت ہوگی، اور اُن کی اجازت کے بغیر مذکور قبرستان میں برادری کے علاوہ مردوں کی تدفین کرنا شرعاً جائز نہ ہوگا۔
جبکہ مذکور قبرستان کی زمین اگر بہت بڑی ہو اور اس کا بعض حصہ ویسے ہی خالی اور زائد پڑا ہو اور قریب میں دوسری کوئی مسجد بھی نہ ہو یا ہو، لیکن نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے مسجد چھوٹی پڑ رہی ہو تو واقفین کی اجازت اور اہلِ محلہ کے ذی رائے لوگوں سے مشورہ کرنے کے بعد اس قبرستان کے زائد حصہ میں مسجد بنانے کی گنجائش ہے، ورنہ نہیں۔
کما فی الدر المختار: شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة و وجوب العمل به۔اھ (4/433)
وفی عمدة القاري: وأما المقبرة الداثرة إذا بني فيها مسجد ليصلى فيه فلم أر فيه بأسا، لأن المقابر وقف، وكذا المسجد، فمعناها واحد۔اھ (4/174)