السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!مسجد بنانے سے پہلے مسجد کے نیچے دکانیں بنائی گئیں ، جن کا آمدن مسجد پر خرچ ہوگا،اب اس مسجد میں با جماعت نماز ادا ہو سکتی ہے؟با جماعت نماز کا ثواب مل جائیگا؟اور اعتکاف کیاجاسکتا ہے اس مسجد میں؟رہنمائی فرمائیں۔جزاک اللہ خیرا !
صورتِ مسؤلہ میں اگر واقف یا متولی نے مذکور جگہ وقف کرتے وقت ہی زمینی منزل میں دکانیں اور اوپر مسجد بنانے کی صراحت کی ہو اور مسجد کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد اس میں اذان واقامت کے ساتھ باجماعت نماز ادا کی جاچکی ہوتو ایسی صورت میں یہ مسجدِشرعی ہی شمار ہوگی ، لہذا اس میں باجماعت نماز ادا کرنا اور اعتکاف کرنا بھی شرعاً درست ہے، اور یہاں پر پڑھی جانے والی نمازوں پر مسجد کا ثواب حاصل ہو گا ۔
کما فی الھدایه:ومن جعل مسجدا تحته سرداب أو فوقه بيت وجعل باب المسجد إلى الطريق،وعزله عن ملكه فله أن يبيعه،وإن مات يورث عنه" لأنه لم يخلص لله تعالى لبقاء حق العبد متعلقا به،ولو كان السرداب لمصالح المسجد جاز كما في مسجد بيت المقدس اھ(3/ 20) ۔
وفی الشامیۃ:وإذا كان السرداب أو العلو لمصالح المسجد أو كانا وقفا عليه صار مسجدا اهـ. شرنبلالية.قال في البحروحاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى {وأن المساجد لله} [الجن: 18]- بخلاف ما إذا كان السرداب والعلو موقوفا لمصالح المسجد، فهو كسرداب بيت المقدس هذا هو ظاهر الرواية اھ (4/358) ۔