میری امی کے تین بھائی ہیں جن میں سے ایک کا انتقال ہوگیا ہے،جس کی پراپرٹی بھائی اور بہن کو ملی اسلامی قانون کے حساب سے ،پھر اس پراپرٹی کو میری امی اور ایک چھوٹے بھائی نے مدرسے کے نام سے ہبہ کر دیا ،مسجد کے پاس بالکل قریب میں زمین سیل ہورہی ہے،مسجد کے صدر اور سکرٹری کا کہنا ہے کہ آپ لوگ زمین خرید کر ہبہ والی جو آپ لوگوں نے دیا ہے ،اس کا پیسہ دیجئے، تاکہ ہم لوگ مسجد کے قریب کی زمین خرید لیں کچھ دن پہلے چھوٹے والے بھائی کا بھی انتقال ہوگیا ہے ،ہبہ کی ہوئی زمین کے بدلے مسجد کے پاس والی زمین دلاسکتے ہیں؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کی والدہ اور ماموں نے اگر مذکور زمین مدرسے کیلئے وقف کرکے باقاعدہ متولی کے حوالہ کردی تھی اور اس میں پڑھائی کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا تو یہ وقف تام ہوچکا ، اور موقوفہ زمین واقفین کی ملکیت سے نکل چکی ہے، لہذا اب اس زمین کو بیچ کر اس رقم سے مسجد کے قریب دوسری زمین خریدنا درست نہیں جس سے اجتناب لازم ہے،بلکہ اگر واقعۃً ضرورت ہو تو اہل محلہ اور مخیر حضرات کو چاہیئے کہ اس کارِ خیر میں حصہ ڈال کر مسجد کیلئے مذکور زمین خرید لیں۔
کما فی الھندیة: وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث كذا في الهداية وفي العيون واليتيمة ان الفتوى على قولهما".اھ(2/350)۔
وفی ردالمحتار: شرط الواقف كنص الشارع، أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به‘‘ اھ (4/433)۔
وفیہ ایضاً:" (قوله: وجاز شرط الاستبدال به إلخ) اعلم أن الاستبدال على ثلاثة وجوه: الأول: أن يشرطه الواقف لنفسه أو لغيره أو لنفسه وغيره، فالاستبدال فيه جائز على الصحيح وقيل اتفاقا. والثاني: أن لا يشرطه سواء شرط عدمه أو سكت لكن صار بحيث لا ينتفع به بالكلية بأن لا يحصل منه شيء أصلا، أو لا يفي بمؤنته فهو أيضا جائز على الأصح إذا كان بإذن القاضي ورأيه المصلحة فيه. والثالث: أن لا يشرطه أيضا ولكن فيه نفع في الجملة وبدله خير منه ريعا ونفعا، وهذا لايجوز استبداله على الأصح المختار اھ (4/384)۔