میری بیوی کچھ عرصہ سے اپنے والدین کے ہاں رہ رہی تھی میرے بار بار کہنے کے باوجود وہ واپس نہیں آرہی تھی اور یوں کرتے کراتے 2 سال کا عرصہ گزر گیا ، آخر کار آخری حربے کے طور پر اور ڈرانے کے لئے میں نے ایک تحریر لکھ کر اپنے ساتھ لے گیا اور یہ حربہ میرا کامیاب ہو گیا اور بیوی میرے ساتھ چلنے کو تیار ہو گئی۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اس معاملے کا ذکر میں نے مولانا صاحب سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر آپ نے تحریر لکھ کر دے دی تو طلاق ہو گئی ہے اب میں اور میری بیوی اس وجہ سے بہت زیادہ پریشان ہیں برائے مہربانی اس مسئلہ کے بارے میں فتوٰی جاری کیا جائے شکریہ !
نوٹ : خط کشیدہ عبارت کا ترجمہ یہ ہے ،کہ آج میں تجھے گواہوں کے رو برو ایک طلاق دیتا ہوں ، اگر گھر جا کر تجھے رجوع کا خیال آیا تو رجوع کر لیں گے ، ورنہ میں تجھے دو اور طلاق بھی دے دوں گا ۔
سوال کے ساتھ منسلکہ طلاق نامہ اگر مطابقِ اصل ہو اور سائل نے طلاق نامہ میں تحریر کردہ طلاق کے علاوہ اس سے قبل یا بعد میں بیوی کو مزید کوئی طلاق نہ دی ہو ، فقط منسلکہ طلاق نامہ بنوا کر اس پر دستخط کیے ہوں ، تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوچکی ہے ، جس کا حکم یہ ہے کہ سائل دورانِ عدت رجوع کرنا چاہے تو کر سکتا ہے ، چنانچہ سائل اگر بیوی سے کہہ دے کہ '' میں تجھ سے رجوع کرتا ہوں '' یا بوس و کنار اور میاں بیوی والا تعلق قائم کر لیں تو ایسا کرنے سے بھی رجوع درست ہو کر میاں و بیوی کا نکاح برقرار رہے گا اور پھر ایک دوسرے کے ساتھ زندگی بسر کرنا درست ہو گا ، بصورتِ دیگر عدت گزر جانے کے بعد ایک ساتھ رہنے کے لئے میاں و بیوی پر باضابطہ گواہان کی موجودگی میں اور حق مہر کے تقرر کے ساتھ تجدید نکاح کرنا لازم ہو گا ، بہر دو صورت آئندہ کے لئے شوہر ( سائل ) کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہو گا ، اس لئے آئندہ کے لئے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط کرنا چاہیئے ۔
کما فی الھدایۃ : فالصریح قولہ انت طالق و مطلقۃ و طلقتک فھذا یقع بہ الطلاق الرجعی الخ ( کتاب الطلاق ، ج 2 ، ص 378 ، ط : رحمانیہ ) ۔
و فیہ ایضاً : و اذا طلق الرجل امراتہ تطلیقۃ رجعیۃ او تطلیقتین ، فلہ ان یراجعھا فی عدتھا ، رضیت بذلک او لم ترض ، لقولہ تعالی فامسکوھن بمعروف من غیر فصل و لا بد من قیام العدۃ ، لان الرجعۃ استدامۃ الملک الا تری انہ سمی امساکا و ھو الابقاء ( باب الرجعۃ ، ج 2 ، ص 405 ، ط : رحمانیہ ) ۔
و فی الدر المحتار : و تصح مع اکراہ و ھزل و لعب و خطأ ( بنحو ) متعلق باستدامۃ ( راجعتک ) و رددتک و مسلتک بلا نیۃ لانہ صریح ( و ) بالفعل مع الکراھۃ ( باب الرجعۃ ، ج 3 ، ص 396 ، ط : سعید ) ۔
و فی الھندیۃ : و اما حکمہ فوقوع الفرقۃ بانقضاء العدۃ فی الرجعی و بدونہ فی البائن الخ ( کتاب الطلاق ، ج 1 ، ص 348 ط : ماجدیہ ) ۔