السلام علیکم ، مفتی صاحب ! جناب میں نے آپ سے پوچھنا تھا اور فتویٰ چاہئے کہ نکاح کےفوراً بعد میاں اور بیوی اگر خلوت میں ملے ، اور کمرے کا دروازہ کھلا ہوا ہو 4 سے 5 انچ، اور باہر چہل قدمی بھی ہو رہی ہو ، اور پھر کچھ سیکنڈ کےلئے میاں بیوی گلے ملے اور پھر الگ ہوجائے اور باہر چلے جائے ، اور پھر کچھ ایسے معاملات ہوجائے جس سے علیحدگی (طلاق ) ہوجائے اور وہ بھی حیض کے اندر ، تو اگر دوبارہ وہ میاں بیوی نکاح کرنا چاہیں تو کیا عدت ہوگی اور حلالہ ہوگا یا نہیں ، براہ ِکرم قرآن و حدیث کی روشنی میں ہمارے علم میں اضافہ فرمائیں اور فتوٰی دیجئے ، جزاک اللہ ۔
صورتِ مسئولہ میں سائل نے اپنی منکوحہ سے جس کمرہ میں ملاقات کی ہے ، اس کا دروازہ اگر اس طور پر کھلا ہواہو کہ باہر لوگوں کی آمد و رفت جاری ہو ، اور کسی وقت بھی باہر سے کسی شخص کے کمرہ میں داخل ہونے کا اندیشہ ہو ، جس کی وجہ سے سائل اور اس کی منکوحہ کو مکمل اطمینان کی کیفیت حاصل نہ ہو ، تو ایسی صورت میں اس ملاقات سے میاں و بیوی کے درمیان خلوتِ صحیحہ متحقق نہیں ہوئی ، تاہم اس کے بعد دی جانے والی طلاق اور اس کا حکم معلوم کرنے کے لئے الفاظِ طلاق اور اس کی تعداد کو اگر مکمل تفصیل کے ساتھ لکھ کر بھیج دی جائے تو اس تفصیل کے بعد حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جاسکتا ہے ۔
کما فی ردالمحتار تحت : ( قولہ و بیت بابہ مفتوح ) أی بحیث لو نظر إنسان رآھما ، وفیہ خلاف ، ففی مجموع النوازل : إن کان لایدخل علیھما إلا بإذن فھی خلوۃ ، و اختار فی الذخیرۃ أنہ مانع و ھو الظاھر بحر ، و وجھہ أن إمکان النظر مانع بلاتوقف علی الدخول ، فلافائدۃ فی الإذن و عدمہ إلخ ( ج 3 ، ص 116 ) ۔
و فی الفتاوی الخانیۃ : لاتصح الخلوۃ إذا خافا اطلاع الغیر علیھما فإن امنا عن ذلک صحت الخلوۃ إلخ ( ج 1 ، ص 397 ، ط : ماجدیۃ ) ۔