ہم 6 بہن بھائی 2 بھائی اور 4 بہنیں ہیں ، والد نے مکان بیچ دیا ہے اور اب وہ شرعی طور پر رقم تقسیم کرنا چاہتے ہیں ، شریعت کے حوالے سے ہماری مدد کریں ، اثاثوں کو کیسے تقسیم کیا جا سکتا ہے ؟
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاء ہونے سے قبل اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کر سکتا ہے ، اس کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان مال و جائیداد تقسیم کرنا لازم نہیں اور نہ ہی کسی بیٹے یا بیٹی کو اس میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہے ، البتہ اگر وہ شخص اپنی مرضی سے اپنی اولاد کے درمیان اپنا مال و جائیداد تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے ، مگر یہ تقسیم ِترکہ نہیں بلکہ ہبہ اور گفٹ ہے ، جس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ وہ شخص اپنی اور اپنی بیوی کی بقیہ زندگی کے لئے محتاط اندازے کے مطابق جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد (بیٹوں اور بیٹیوں ) میں برابر تقسیم کر کے ہر فرد کو اسکے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاً بھی درست ہو جائے ، محض کاغذات میں نام کر دینا یا زبانی کلامی دینا کافی نہیں ، پھر بہتر اور افضل یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب کو برابر اور یکساں رکھے کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے کہ سب ہی اس کی اولاد ہیں ، تاہم اگر کسی بیٹے ، بیٹی کی خدمت گزاری ، دینداری وغیرہ کی بناء پر اسے دوسری اولاد کے مقابلے میں زیادہ دینا چاہے تو شرعاً اسکی بھی اجازت ہے مگر بلا وجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے کہ یہ گناہ ہے ۔
کما فی بدائع الصنائع : و ینبغی للرجل ان یعدل بین اولادہ فی النحلی لقولہ سبحانہ و تعالٰی ان اللہ یامر بالعدل و الاحسان الخ ( کتاب الھبۃ ، ج 6 ، ص 127 ، ط : سعید ) ۔
و فی البحر الرائق : یکرہ تفضیل بعض الاولاد علی البعض فی الھبۃ حالۃ الصحۃ ( الی قولہ ) و فی الخلاصۃ المختار التسویۃ بین الذکر و الانثیٰ فی الھبۃ الخ ( کتاب الھبۃ ج7، ص 288 ، ط : ماجدیہ ) ۔
و فی الھندیۃ : و لو وھب رجل شیئاً لاولادہ فی الصحۃ و اراد تفضیل البعض علی البعض ( الی قولہ ) لاباس بہ اذا لم یقصد بہ الاضرار سوی بینھم یعطی الابنۃ مثل ما یعطی للابن و علیہ الفتوٰی الخ ( کتاب الھبۃ ، ج 4 ، ص 391 ، ط : ماجدیہ )۔
و فی رد المحتار : و لو وھب شیئاً لاولادہ فی الصحۃ و اراد تفضیل البعض علی البعض روی عن ابی حنیفۃ لا باس بہ اذا کان التفضیل لزیادۃ فضل الدین ( کتاب الھبۃ ، ج 4 ، ص 444 ، ط : سعید ) ۔
و فی الدر المحتار : ( و تتم ) الھبۃ ( بالقبض ) الکامل ( و لو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ ) ( کتاب الھبۃ ، ج 5 ، ص 690 ، ط : سعید ) ۔