تین بار ایک ساتھ طلاق دینے کا شرعی حکم کیا ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث کےمطابق یہ ایک ہی طلاق شمار ہو گی ،ڈاکٹر ذاکر نا ئیک بھی اس کو قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک طلاق مانتا ہے ، اس مسئلے میں احناف اور اہلحدیث کا اختلاف پایا جاتا ہے ،کون صحیح ہے کون غلط ؟آپ سے رہنمائی درکار ہے۔
واضح ہو کہ ایک مجلس میں تین طلاقیں خواہ ایک جملہ سے دی ہو ں جیسے تجھے تین طلاق ہے یا علٰیحدہ علٰیحدہ جملوں سے دی ہو ں جیسے تمہیں طلاق دیتا ہوں ،تمہیں طلاق دیتا ہوں، تمہیں طلاق دیتا ہوں ،بہر صورت اس سے قرآن و سنت کی روشنی میں تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں،اس پر حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ،تابعین عظام رحمہم اللہ کا اتفاق ہےاور امت کے چاروں ائمہ کرام (امام اعظم ،امام مالک ،امام شافعی،امام احمد بن حنبل رحمھم اللہ) کا بھی یہی مسلک ہے، جبکہ بیک وقت دی ہوئی تین طلاقوں کو ایک شمار کرنے والے جو حضرات , حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایتِ مبارکہ سے استدلال پیش کرتے ہیں ، ان کے اس استدلال کا جواب جمہور فقہاء نےیہ دیا ہے کہ ابتداءِ اسلام میں مسلمان راست باز اور صاف دل ہوتے تھے ،لہذا ان کا دعوی قبول کرلیا جاتا تھا کہ (تین دفعہ کے)الفاظ سے اس کی نیت صرف تاکید کی تھی، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں جب لوگوں کی کثرت ہوگئی اور لوگوں کے اندر پہلے کی بہ نسبت دیانت میں کمی محسوس کی گئی, جو دعواۓ تاکید کے قبول کرنے سے مانع ہہوتی ہے ،توحضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مکرر الفاظ کو ان کے ظاہری معنی پرمحمول فرتے ہوئے قضاءً اسے نافذ فرما دیا اور اسی پر تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین متفق ہوگئے تھے ،لہذا اس مسئلہ میں اہلحدیث حضرات یا ڈاکٹر ذاکر نائیک کی بات پر عمل کرنا درست نہیں جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
کما فی صحیح البخاری : و قال الليث: حدثني نافع، قال : كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه و سلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك»(5264)۔
و فی مصنف ابن ابی شیبۃ : عن ھارون عن ابیہ قال : کنت جالساً عند ابن عباس فاتاہ رجل فقال یا ابن عباس انہ طلق امراتہ مائۃ مرۃ و انما قلت مرۃ واحدۃ فتبین منی بثلاث ام ھی و احدۃ ؟ فقال بانت بثلاث و علیک و زر سبعۃ و تسعین اھ (4/12)۔
و فی الدرالمختار : [فروع] كرر لفظ الطلاق و قع الكل، و إن نوى التأكيد دين اھ
و فی ردالمحتار : (قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة : أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك(الی قولہ) (قوله و إن نوى التأكيد دين) أي و وقع الكل قضاء، و كذا إذا اطلق أشباه: أي بأن لم ينو استئنافا و لا تأكيدا لأن الأصل عدم التأكيد اھ(3/293)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0