آپ مفتیان کرام درج ذیل مسئلہ کے متعلق میری راہنمائی قرآن وسنت کی روسے فرماکر ماجور ہوں !
میری بھانجی کا بیٹا مسمیٰ " واؤ" نے گن پوائنٹ کی وجہ سے اپنی منکوحہ( جو کہ میری بھانجے کی بیٹی لگتی ہے)مسماۃ" حاء" کو تین مرتبہ طلاق دی ، جس کی موبائل ریکاڈنگ ہمارے پاس موجود ہے۔
وضاحت کچھ یوں ہے کہ مسمی " واؤ" کو کسی تیسرے لوگوں نے اغواء کر کے زبر دستی اس سے اپنی بیوی کو طلاق دلوائی ،جس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ وہ اپنی لڑکی ، جس کا اس میرے بھانجے " واؤ" کے ساتھ آپس میں دوستانہ چکر تھا ،سے شادی کروائی جاسکے ۔
نوٹ :شوہر نے زبانی تین بار یہ جملہ کہا "میں اللہ کو حاضر وناظر جان کر اپنی بیوی مسماۃ " حاء " کو طلاق دیتا ہوں " مذکور میاں بیوی کی نکاح ورخصتی سب کچھ ہو چکی ہے ۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق مذکور افراد کا شوہر کو اغواء کرکے گن پوائنٹ پر زبر دستی اس سے طلاق دلوانا ،ظلم اور انسانی حق تلفی پر مبنی ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام عمل تھا، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوئے ہیں ،اور شوہر کو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق بھی حاصل ہے ،تاہم عندالاحناف چونکہ اس کے باوجود بھی شرعاً طلاق ہوجاتی ہے ،اس لئے جب مسمیٰ " واؤ" نے مذکور الفاظ "میں اللہ کو حاظر وناظر جان کر اپنی بیوی مسماۃ " حاء" کو طلاق دیتا ہوں "تین مرتبہ کہہ دیئے، تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ،اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح ہو سکتا ہے ،جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کما فی بدائع الصنائع :وأما كون الزوج طائعا فليس بشرط عند أصحابنا وعند الشافعي شرط حتى يقع طلاق المكره عندنا وعنده لا يقع ونذكر المسألة في كتاب الإكراه إن شاء الله تعالى وذكر محمد بإسناده «أن امرأة اعتقلت زوجها وجلست على صدره ومعها شفرة فوضعتها على حلقه، وقالت: لتطلقني ثلاثا أو لأنفذنها فناشدها الله أن لا تفعل فأبت فطلقها ثلاثا فذكر لرسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال لا قيلولة في الطلاق» (3/ 100)
وفی الدر المختار :(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها) فإن طلاقه صحيح لا إقراره بالطلاق اھ(3 /235)