مجھے میرے شوہر نے دو دفعہ طلاق دی ہے کچھ وقفہ سے ، ہمارے دو بچے ہیں، اور وہ مجھے رکھنا بھی نہیں چاہ رہے، میں ڈیڑھ سال سے اپنے والدین کے گھر پر ہوں، اب میں خلع لینا چاہتی ہوں تو وہ مجھے بولتے ہیں " کورٹ سے لو اور میں دستخط بھی نہیں کروں گا خلع نامہ پر "، تو مجھے یہ پوچھنا تھا کہ میں خلع کیسے لے سکتی ہوں؟ اور اگر انہوں نے دستخط نہیں کیے تو کیا میں کہیں اور شادی کر سکتی ہوں ؟ پہلی طلاق کے بعد وہ مجھ سے دوبارہ نکاح بھی کر چکے ہیں ، میری اس سلسلے میں راہ نمائی فرمادیں، میں کافی عرصہ سے پریشان ہوں۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کے لیے فریقین کی باہم رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا شوہر اگر عقد خلع پر راضی نہ ہو تو عدالت کی طرف سے جاری کر دہ یکطرفہ خلع کی ڈگری کا شرعا کوئی اعتبار نہیں، اور اس کی وجہ سے شرعا سائلہ کا نکاح ختم نہ ہوگا، چنانچہ اس ڈگری کو بنیاد بنا کر سائلہ کے لیے کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنا درست نہ ہوگا، البتہ اگر سائلہ کے شوہر نے سائلہ کو بلاکسی معقول عذر کے والدین کے گھر بٹھایا ہو، اور اسے نان نفقہ بھی نہ دیتا ہو، تو ایسی صورت میں سائلہ نان و نفقہ نہ دینے کی بنیاد پر تنسیخ نکاح کا دعوی دائر کر کے بذریعہ قاضی اپنا نکاح فسخ کرواسکتی ہے ، جو کہ شرعا بھی معتبر ہو گا، اور اس کے بعد عدت گزار کر سائلہ کے لیے دوسری جگہ نکاح کرنا جائز ہو گا۔
لما في التنزيل العزيز: {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (229) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } [البقرة: 229، 230]
و في مشكاة المصابيح: عن ابن عباس: أن امرأة ثابت بن قيس أتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله ثابت بن قيس ما أعتب عليه في خلق ولا دين ولكني أكره الكفر في الإسلام فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أتردين عليه حديقته؟» قالت: نعم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «اقبل الحديقة وطلقها تطليقة» . رواه البخاري اھ (2/ 977)
و في المبسوط للسرخسي: (قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد. (6/ 173)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: وشرطه كالطلاق) وهو أهلية الزوج وكون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلقا على الملك. وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول، بخلاف ما إذا قال خالعتك ولم يذكر العوض ونوى الطلاق فإنه يقع وإن لم تقبل لأنه طلاق بلا عوض فلا يفتقر إلى القبول اهـ (3/ 441)
و في الحيلة الناجزة للحليلة العاجزة: و اما المتعنت الممتنع عن الانفاق ففى مجموع الامير ما نصه : ان منعها نفقة الحال فلها القيام فان لم يثبت عسره انفق او طلق ، و الا طلق عليه .
وقال محشيه : ای طلق عليه الحاكم من غير تلوم. (ص: (73) والله اعلم بالصواب
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0