۱۔ بچوں کی پرورش کا حق کس کو ہے؟ ماں کو یا ساس کو یا دیوروں کو؟
۲۔ بچے ددھیال میں رہنا چاہتے ہیں، کیا بچوں کی مرضی پر چلا جا سکتا ہے یا ان کو سمجھانا چاہیۓ، قرآن وسنت کی روشنی میں جواب دیں؟
۳۔ آپ ﷺکے والد پیدائش سے پہلے ہی وفات پا گئے تھے، اس لۓ آپ کی پرورش آپ کے دادا نے کی تھی، کیا اس رو سے پرورش کا حق دادی اور چچا کو دیا جا سکتا ہے؟
۱۔ لڑکے کی سات سال اور لڑکی کے بلوغ تک، پرورش کا حق اس کی ماں کو ہے اور اس مدت تک پرورش کا خرچہ بچوں کے اپنے مال سے ہوگا۔
۲۔ بچے اگر بالغ ہوں تو وہ اپنی مرضی سے جہاں چاہیں رہ سکتے ہیں، ور نہ ان کی رائے کا کوئی اعتبار نہیں۔
۳۔ اگر بچے کی ماں اور دوسرے مقدم اولیاء مثلاً باپ وغیرہ موجود نہ ہوں یا دستبرداری ظاہر کریں تو بلاشبہ دادی اور چچا کو بھی اس کا حق دیا جا سکتا ہے۔