ایک کمپنی میں کام کرتا ہوں، جہاں فیول کارڈ دیا ہے، جس کی لمٹ 120 لیٹر ہے، یہ فیول ایک مہینے میں استعمال کرنا ہوتا ہے ، اگر استعمال کم ہو تو باقی فیول ضائع ہو جاتا ہے، اور ہر مہینے کی پہلی کو 120 لیٹر مل جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کچھ فیول بچ جائے تو پیٹرول پمپ والوں سے اس کے عوض پیسے لیے جاسکتے ہیں ؟ میں آپ کو پالیسی بھی لکھ رہا ہوں، اس میں ایسا کچھ واضح نہیں، مگر جب کمپنی سے بات کریں تو وہ کہتے ہیں یہ آپ کے ماہانہ معاوضہ کا حصہ ہے، کیا پیٹرول بچ جانے کی صورت میں باقی کے عوض پیٹرول پمپ والوں سے پیسے لینا جائز ہے ؟ جزاکم اللہ خیر !!
عموماً کسی بھی ادارہ کی طرف سے اپنے ملازمین کے لیے پیٹرول یا علاج معالجہ کی مد میں سہولت کی حد مقرر کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ملازم اس مقدار تک اس سہولت سے استفادہ کر سکتا ہے، اور مقررہ اخراجات سے زیادہ کی ذمہ داری ادارہ پر عائد نہ ہوگی، لیکن مطلوب مقدار مکمل کرنا کوئی لازم اور ضروری نہیں ہوتا، اور نہ ہی عموما اس سہولت کی ادارہ کی طرف سے ذاتی استعمال کے بجائے دوسروں کو فروخت کرنے یا ہدیہ کرنے کی اجازت ہوتی ہے، اس لیے اگر سائل کو باقاعدہ کمپنی کی طرف سے مذکور مقدار پوری کرنے کے لیے کمپنی اور ذاتی استعمال کے علاوہ دوسروں کو فروخت کرنے کی صراحۃً اجازت نہ ہو، تو اس کے لیے زائد پیٹرول فروخت کر کے پیسہ کمانا شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
لما في التنزيل العزيز : {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ } [النساء: 29]
و في كما في سنن أبي داود: وزاد سليمان بن داود: وقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "المسلمون على شروطهم" اھ (5/ 446)
و في مشكاة المصابيح: وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى اھ (2/ 889)
و في صحيح مسلم للنيسابوري: 294 - حدثنا قتيبة بن سعيد حدثنا يعقوب - وهو ابن عبد الرحمن القارى ح وحدثنا أبو الأحوص محمد بن حيان حدثنا ابن أبى حازم كلاهما عن سهيل بن أبى صالح عن أبيه عن أبى هريرة أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال « من حمل علينا السلاح فليس منا ومن غشنا فليس منا ». (1/ 69) والله اعلم بالصواب