السلام علیکم میرا نام ۔۔۔ ہے ،میری ۔۔۔سے آج سے چار سال پہلے شادی ہوئی تھی میں ۔۔۔ کی دوسری بیوی تھی کچھ عرصہ کے بعد ہم نے طے کیا کہ ہمارا کوئی مستقبل نہیں ساتھ کیونکہ میرے ماں باپ اس شادی کو کبھی قبول نہیں کریں گے اور۔۔۔۔ کی پہلی بیوی بھی کبھی راضی نہیں ہوگی۔ میں نے اور ۔۔۔ نے یہ طے کیا کہ علیحدگی اختیار کی جائے۔شوہرنے کہا وہ مجھے سامنے بٹھاکر منہ سے طلاق نہیں دے سکتا وہ سٹام پیپر پے دے گا میں نے پیپر بنوائے ۔۔۔نے بولا وہ میری ماہواری سے پہلے طلاق دے گا تو میں نے اس کے سامنے طلاق نامہ رکھا۔۔۔کی طے کردہ دن اور تاریخ پر اس نے ان پیپر پر دستخط کیے، کسی زور زبر دستی کے بغیر اس طلاق نامہ پر واضح الفاظ میں لکھا تھا" میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں" جس پر اس نے تین دفعہ دستخط کیے، اب وہ دو سال بعد کہتا ہے طلاق نہیں ہوئی اور میں اس کی بیوی ہوں، اور میں آگے کسی اور سے شادی نہیں کر سکتی ، براہ مہربانی راہ نمائی کرے کہ طلاق ہو گئی یا نہیں؟
سائلہ نے طلاق نامہ ارسال نہیں کیا تا کہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم طلاق نامہ میں اگر تین طلاقیں درج ہوں، اور سائلہ کے شوہر نے اس پر دستخط کر دیئے ہوں تو ایسی صورت میں طلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، اور اب سائلہ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی شرعاً آزاد ہے۔
كما في الفقه الاسلامي وادلته: الفقه الإسلامي وأدلته: إذا طلق الرجل امرأته ثلاثاً بكلمة واحدة أو بكلمات في طهر واحد، يكون آثماً مستحقاً لعقوبة يراها القاضي، لكن الطلاق يقع ثلاثاً في المذاهب الأربعة. (۷/390) مط: رشيديه)
وفيه ايضاً: يقع الطلاق باللفظ الصريح بدون حاجة إلى نية أو دالة حال، فلو قال الرجل لزوجته: أنت طالق، وقع الطلاق، ولا يلتفت لادعائه أنه لا يريد الطلاق. (۷/366)
وفيه ايضاً: وتنفذ الطلقات الثلاث بالاتفاق، سواء طلق الرجل المرأة واحدة بعد واحدة، أم جمع الثلاث في كلمة واحدة بأن قال: أنت طالق ثلاثاً، عند الجمهور خلافاً للظاهرية. (۷/372)
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وأما الذي يرجع إلى العدد فهو إيقاع الثلاث أو الثنتين في طهر واحد لا جماع فيه سواء كان على الجمع بأن أوقع الثلاث جملة واحدة أو على التفاريق واحدا بعد واحد بعد أن كان الكل في طهر واحد وهذا قول أصحابنا اھ (3/ 94)
وفيه ايضاً : وأما حكم طلاق البدعة فهو أنه واقع عند عامة العلماء. وقال بعض الناس: إنه لا يقع وهو مذهب الشيعة أيضا اھ (3/ 96) والله اعلم بالصواب
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0