ترجمہ :السلام علیکم ، میں اور میرے شوہر دو سال سے نکاح میں ہیں ،میری ساس کی طرف سے بے عزتی اور تذلیل کی گئی ،اور کئی دفعہ میرے والدین کے ساتھ برا سلوک کیا گیا،میں نے اس بارے میں پہلے دن سے اپنے شو ہر کو بتایا ،اس نے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا ،وہ عام طور پر میرے والدین کو فون کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ چلو چھوٹی چھوٹی باتوں پر ملتے ہیں ،اور پھر اس پر خواہ مخواہ بے کار بحث کرتے ہیں ،اس بار اس نے کال پر میری والدہ کے ساتھ پھر بدتمیزی کی ،جسے سب نے سنا آگے ایک مجمع تھا جہاں میں نے اسے سلام کیا لیکن اس سے بات نہیں کی کیوں کہ میں کسی ایسے شخص کی عزت نہیں کرسکتی جو میرے والدین کی عزت کرنا نہیں جانتا ،میں سخت ہوگئی بعد میں اس نے دوبارہ میرے والد کو فون کیا کہ وہ میری شکایت کریں ،میرے والد نے اسے سمجھایا کہ اس کا لہجہ اور الفاظ کس طرح ذلت آمیز ہے ،اور بچوں پر اثر انداز ہوں گے ،انہوں نے اپنے آپ میں اس پر بحث کی ،میرے شوہر نے بعد میں مجھے بتایا کہ آپ کو میری والدہ کے ساتھ ایسا سلوک کرنے کا کوئی حق نہیں ،کیوں کہ وہ خاندان کی سربراہ ہے ،وہ آپ سے کسی بھی لہجے میں بات کرسکتی ہے ،بلکہ اس کی فیملی میں ہر کوئی ،کیوں کہ میں سب سے چھوٹی ہو ،اس کی بہن فون میرے چہرے پر گرا دیتی ہے،اور جب بھی وہ ہم سے ملنے آتی ہے تو بہت سخت ہوتی ہے ،میرے شوہر کا کہنا ہے کہ اسلام میں بھی یہ درست ہے ،اور بہو سب ماننے کی پابند ہے ،کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ مشترک فیملی اور ساس کا سخت لہجے میں بات کرنا جائز ہے ؟ حالانکہ ویزہ کی وجہ سے ابھی تک رخصتی بھی نہیں ہوئی ہے ۔
بہو کیلئے اگرچہ اپنی ساس کو والدہ کا درجہ دیکر اس سے حسن سلوک سے پیش آنا ،اس کا اخلاقی فریضہ اور سعادت مندی ہے ،جس پر اسے عمل پیرا ہونا چاہئے ،لیکن سوال میں درج کردہ تفصیلات کے مطابق سائلہ کے شوہر اور اس کی والدہ کا سائلہ اور اس کے والدین کے ساتھ توہین آمیز لہجے میں بات کرنا ،اور بلا وجہ چھوٹی موٹی باتوں پر انہیں ٹوک کر ان کی تذلیل کرنا قطعاً درست نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں ،لہذا سائلہ کے شوہر اور اس کے اہل خانہ کو چاہئے کہ چھوٹی موٹی باتوں کو بڑھا چڑھا کر گھریلو ماحول متاثر کرنے کے بجائے تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوشگوار ی کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی کوشش کریں ۔
فی سنن الترمذي :عن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليس المؤمن بالطعان ولا اللعان ولا الفاحش ولا البذيء.(3/418)