ایک شخص ہے جس کا اپنی بیوی کے ساتھ جھگڑا ہوا اور اس نے خاوند سے کہا کہ مجھے طلاق دو،تو خاوند نے کہا اچھا پھر جاو طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے۔لیکن خاوند کہتا ہے کہ اسکی نیت ایک طلاق کی تھی۔اور اس پر وہ حلف دینے کو تیار ہے۔کیا بیوی کو تینوں طلاق واقع ہوگئی ہیں وضاحت فرمائیں،جزاک اللہ
مذکور شخص کا بیوی کے مطالبے پر کو مذکور الفاظ "طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے"تین بار کہہ دینے سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا،جبکہ عورت عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔