کیا فرماتے ہیں علماءِ دین متین اور مفتیانِ شرع مبین درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ”جی پی فنڈ پہلے،حکومت سرکاری ملازم سے بغیر پوچھے کاٹتی اور بغیر پوچھے اس پر نفع شامل کر کے دیتی تھی، اس کو تو علماء نے جائز قرار دیا تھا،مگر اب جیسا کہ آپ حضرات کے علم میں ہوگا کہ سرکاری ملازم سے جی پی فنڈ کی مد میں حکومت کچھ رقم کاٹ کر جمع کرتی ہے اور اس کاٹنے میں ملازم سے نہیں پوچھتے، یعنی یہ کٹوتی پہلے کی طرح اب بھی جبری ہے، البتہ اب حکومت ملازم کو ایک اختیار دیتی ہے کہ تم اس پر نفع یعنی سود لوگے یا نہیں ؟
واضح رہے کہ جن ملازمین نے " نہیں" اختیار کر لیا ہو اس کی ماہانہ تنخواہ نامے ( سیلری سلِپ ) میں GPF lnterest Free واضح الفاظ میں لکھا ہوتا ہے، جبکہ جو ملازمین لیتے ہیں تو ان کی سیلری سلِپ میں Interest applied لکھا ہوتا ہے یعنی حکومت اس اضافے کو انٹرسٹ ( سود ) ہی کا نام دیتی ہیں، اب جواب طلب بات یہ ہے کہ کیا اب بھی اگر کوئی ملازم نفع وصول کرنے کو اختیار کرے تو یہ سود میں شمار ہوگا یا نہیں ؟ دوسری بات یہ کہ اس موضوع پر ہم نے بنوری ٹاؤن کی ویب سائٹ پر دو فتاویٰ دیکھے ہیں لیکن دونوں ایک دوسرے کے معارض لگ رہے ہیں ایک کا نمبر یہ ہے 144308100541اور دوسرے کا یہ144203201240اس پر بھی نظر ثانی فرمائیں۔جزاکم اللّٰہُ خیراً
اگرکسی ملازم کی تنخواہ سے جبری کٹوتی ہو تی ہو تو ایسی صورت میں ادارے کی طرف سے انٹرسٹ کے نام پر اس پر جو اضافی رقم ملتی ہے ،اس میں کوئی سود نہیں ،بلکہ ملازم کےلئے یہ رقم لینا جائز اور درست ہوگا،لہذا اگر ملازم کو ادارے کی طرف سے اس اضافی رقم کو لینے یا نہ لینے کا اختیار ملنے کی صورت میں وہ اضافی رقم لینے کا انتخاب کرتا ہے تو اس سے یہ معاملہ سودی شمار نہ ہوگا،
جبکہ جامعۃ العلومِ الاسلامیہ( بنوری ٹاؤن) کے فتاوی جات میں اگر سائل کو اس حوالے سے کوئی تضاد معلوم ہورہا ہے تو اس کے لئے مذکور ادارے سے رابطہ کرنا مناسب ہوگا۔
کما فی البحر:(قوله: بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لايملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة، والمراد أنه لايستحقها المؤجر إلا بذلك، كما أشار إليه القدوري في مختصره، لأنها لو كانت دينًا لايقال: إنه ملكه المؤجر قبل قبضه، وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها، فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه، وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر، كذا في المحيط. لكن ليس له بيعها قبل قبضها". (7/ 300)۔