کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام اور علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں چھوٹی عمر میں اپنی خالہ کے ہاں رہتی تھی میرے خالو نے اپنے پیسوں سےایک گائے کی بچی خریدی، جو میرے نام کر دی کہ یہ آپ کا تحفہ ہے ، جب وہ گائے کی بچی بڑی ہوئی تو انہوں نے وہ گائے فروخت کر دی اور حاصل شدہ رقم سے سونا(Gold) زیورات کی صورت خرید لیا جو بقول خالو کے یہ سونا آپ کا (یعنی میرا) ہے، جب میں بڑی ہوگئی اور میری شادی پر انہوں نے اس سونے کے علاوہ کچھ اور سونا بھی مجھے تحفے کے طور پر دیا،سونا بدستور میری خالہ کے پاس ہی پڑا رہا اس دوران میرے خالو فوت ہوگئے ان کی وفات کے بعد میری خالہ نے بہت ساری عورتوں کے سامنے یہ بتایا کہ یہ سونا میری بھانجی(یعنی میرا) ہے اور انہوں نے سونا دکھا کر کہا کہ اگر آپ یہ سونا لینا چاہتی ہو تو میں دینے کے لیے تیار ہوں لیکن میں نے خالہ سے ناراضگی کی وجہ سے وہ سونا نہیں لیا صرف اتنا کہا کہ یہ سونا آپ کے پاس ہی بطور امانت پڑا رہے ،اب جب اس سونے کے بارے میں خالہ سے بات کی تو خالہ کہتی ہیں میں نے اسی کے لیے رکھا تھا کہ اس کو دوں گی،لیکن میرے تعلقات ان سے ساتھ کچھ بہتر نہیں لہٰذا سب یہ سونا اس کو (مجھے) نہیں دیتی ،اب میری خالہ وہ سونا بیچ کر رقم مسجد میں لگانا چاہتی ہے۔یہ بات واضح رہے کہ جب سے سونا خریدا گیا اس وقت سے لے کر آج تک وہ سونا مجھے ادا نہیں کیا گیا صرف زبانی طور پر خالہ اور خالو میری ملکیت کو ظاہر کرتے رہےان حالات و واقعات کی روشنی میں رہنمائی فرمائی جائے کہ سونا کس کی ملکیت ہے ؟ اگر میری ملکیت ہے تو کیا یہ سونا میری خالہ مسجد کے کاموں میں خرچ کر سکتی ہیں .
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً ً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس ، طور پر کہ سائلہ بچپن میں اپنے "خالو "کے زیر پرورش تھی اور اس دوران سائلہ کے خالو نے گائے کی بچی خرید کر یہ کہہ دیا تھا کہ "یہ آپ کا تحفہ ہے اور اس موقع پر والد موجود نہیں تھا کہ جو بچی کی طرف سے قبضہ کرسکے تو ایسی صورت میں خالو کا قبضہ سائلہ کے قبضہ کے قائم مقام ہو کر شرعاً یہ عقد تام ہو چکاتھا اور سائلہ اس گائے کی مالک بن چکی تھی چنا نچہ پھر اگر سائلہ کی بلوغت کے بعد سائلہ کے خالو نے سائلہ کی رضامندی سے گائے فروخت کرکے سائلہ کے لئے سونا خریداتھا ، جس کا سائلہ کے خالو نے لوگوں سامنے اقرار بھی کیا تھا تو ایسی صورت میں شرعاً سونا سائلہ کی ملکیت بن چکا ہے ، لہذا سائلہ کی خالہ کا باہمی رنجش کی وجہ سے اب وہ سونا سائلہ کو حوالہ نہ کرنا شرعاً جائز نہیں جس سے اجتناب لازم ہے ۔
کما فی الھندیۃ: الموهوب له إن كان من أهل القبض فحق القبض إليه، وإن كان الموهوب له صغيرا أو مجنونا فحق القبض إلى وليه، ووليه أبوه أو وصي أبيه ثم جده ثم وصي وصيه ثم القاضي ومن نصبه القاضي، سواء كان الصغير في عيال واحد منهم أو لم يكن، كذا في شرح الطحاوي. فلو أن الأب ووصيه والجد أبا الأب ووصيه غاب غيبة منقطعة جاز قبض الذي يتلوه في الولاية، كذا في الخلاصة، وأما غير الأب والجد نحو الأخ والعم والأم وسائر القرابات ففي الاستحسان يملكون قبض الهبةإذا كان الصغير في عيالهم، وكذلك وصي هؤلاء يملكه استحسانا إذا كان في عياله، وكذلك الأجنبي الذي يعول اليتيم وليس لليتيم أحد سواه جاز قبض الهبة استحسانا ويستوي في هذه المسائل إذا كان الصبي يعقل القبض أو لا يعقل وهذا كله إذا كان الأب ميتا أو حيا غائبا غيبة منقطعة فأما إذا كان حيا حاضرا والصبي في عيال هؤلاء، هل يصح؟ لم يذكر هذا الفصل في الكتب نصا إلا أنه ذكر في الأجنبي إذا كان يعول اليتيم وليس لهذا اليتيم أحد سواه جاز قبض الهبة عليه، وهذا الشرط يقتضي أن لا يصح قبض هؤلاء إذا كان الأب حاضرا، وذكر في الجد أيضا أنه لا يملك القبض على الصغير إذا كان الأب حيا ولم يفصل بينما إذا كان الصغير في عياله أو لم يكن فظاهر ما أطلقه يقتضي أن لا يصح، كذا في الذخيرة.(4/293)۔