واقف ںے ایک مدرسہ بنات کے لئے وقف کیا اور اس کا ایک متولی مقرر کیا ،پھر متولی نے ایک مہتمم مقرر کیا اب کیا واقف کو متولی یا مہتمم تبدیل کرنے کا اختیار ہے؟با حوالہ تفصیلی جواب مرحمت فرمائیں
واضح ہو کہ اگر واقف خود کسی شخص کو املاکِ وقف کا متولی اور نگران مقرر کردے ،اور بعد میں اسے تبدیل کرنا چاہے تو اسے اگرچہ اس متولی اور نگران تبدیل کرنے کا اختیار ہے ،تاہم اگر وہ متولی اور نگران املاک وقف کا پورا خیال رکھتے ہوئے اسے پوری دیانت داری کے ساتھ مقاصد ِ وقف کے مطابق استعمال کررہا ہو تو واقف کیلئے بلاوجہ اسے تبدیل کرنا اور مدرسے کے چلتے ہوئے نظام میں خلل ڈالنا مناسب نہیں ،بلکہ معمول کے مطابق اسے چلانے میں ان کی معاونت کرنی چاہیئے۔
وفی الھندیۃ: و فی الاسعاف : لا یولی الا امین قادر بنفسہ او بنائبہ اھ ( 1/409)۔
و فیھا ایضاً : فان طعن فی الوالی طاعن لم یخرجہ القاضی من الولایۃ الا بخیانۃ ظاہرۃ ، و ان صلح من اخرجہ القاضی رد علیہ ولایۃ الوقف اھ ( 1/425۔
و فی الفتاویٰ التاتارخانیۃ: و لو جعل الواقف ولایۃ الوقف لرجل کانت الولایۃ لہ کما شرط الواقف،و لو اراد الواقف اخراجہ کان لہ ذلک اھ (8/58)۔
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ذکر الحنفیۃ : ان للواقف عزل الناظر مطلقاً ،و بہ یفتی ،و لو لم یجعل الواقف ناظرا،فنصبہ القاضی ،لم یملک الواقف اخراجہ اھ (8/235)۔