جناب مفتی صاحب السلام علیکم !
میرے شوہر کا انتقال ہوۓ ۵ سال ہو چکے ہیں وہ ایک مسجد کے امام تھے ، اور آج سے ۲۰ سال پہلے میری شادی ہوئی تھی ، میں اپنے شوہر کی دوسری بیوی ہوں، پہلی بیوی سے بھی اولاد ہے ایک بیٹا اور ایک بیٹی , سب بالغ شادی شدہ ہیں اور الگ مکان میں رہتے ہیں، اور میرے بھی سگے دو بیٹے بالغ ہیں, جو میرے ساتھ رہتے ہیں ، میری شادی کے وقت ہی طے ہوا تھا کہ مکان اورایک دوکان مجھے ملے گی جہاں میں رہتی ہوں ، میں اپنے شوہرکے ساتھ الگ مکان میں رہتی تھی ، مکان شوہر کے نام ہے اور انہوں نے زبانی کہا تھا کہ یہ مکان تمہارا ہے , اب سوتیلی اولاد وراثت کا تقا ضہ کر رہی ہے اور مجھے مکان سے نکلنے کی دھمکی دے رہی ہے ، کیا شرعی طور پر یہ مکان کی وراثت کی جاۓ گی ؟ جبکہ شوہر زبانی طور پر کہتے رہے کہ مکان تمہارا ہے، یعنی میرا ہے ۔
دوسرا مسٔلہ یہ ہے کہ زندگی میں میرے شوہر نے دوکان بیچ کر(جسکے متعلق شوہر نے کہا تھا کہ یہ تمہاری ہے) اسکی رقم بیٹی کو دے کر کاروبار میں لگائی تھی اور اسکا منافع ہمیں ملتا تھا ، شوہر کے انتقال کے ۲ سال بعد تک دس ہزار منافع ملتا رہا اور اب دینا بند کر دیا اور کاروبار کی رقم بھی سوتیلی بیٹی نے اپنے پاس رکھی ہوئی ہے جو کہ صرف کاروبار کے لئے دی تھی، اسکا شرعی کیا حکم ہے ؟ یعنی یہ مال کی بھی وراثت تقسم ہونی چاہیئے ؟ جواب دے کر رہنماٮٔی فرماٮٔیں۔ جزاک اللہفقط عابدہ خانم
واضح ہو کہ کوئی چیز محض کسی کے نام کرنے یا منہ ز بانی کسی کو دیدنے سے شرعاً اس کی ملکیت نہیں بنتی جب تک اسے اس چیز پر مالکانہ قبضہ نہ دیا جائے ،لہذا سائلہ کے مرحوم شوہر نے اگر چہ مذکور مکان کے متعلق زبانی کلامی یہ کہہ دیا تھا کہ "یہ مکان تمہارا ہے" لیکن اگر مرحوم نے اپنی زندگی میں سائلہ کو مذکور مکان باقاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ حوالہ نہ کیا ہو ، تو محض منہ زبانی یہ کہہ دینے سے کہ "یہ مکان تمہارا ہے" شرعاً سائلہ اس مکان کی مالک نہیں بنی , بلکہ مذکور مکان مرحوم کی وفات تک بدستور اس کی ملکیت میں رہا ، جو اب ان کے انتقال کے بعد دیگر ترکہ کی طرح سائلہ سمیت اس کے تمام شرعی ورثاء میں حسبِ حصصِ ِ شرعیہ تقسیم ہوگا ، جبکہ دکان فروخت ہونے کے بعد ملنے والی رقم کے متعلق سائلہ نے مکمل صراحت نہیں کی کہ سائلہ کے مرحوم شوہر نے مذکور رقم سائلہ یا اس کے بیٹوں میں سے کسی کو باقاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ دینے کے بعد ان کی طرف کاروبار میں لگائی تھی یا فقط اس کا منافع سائلہ کے لئے مختص کیا گیا تھا یا اس کی کوئی اور صورت تھی ، لہذا سائلہ کو چاہیئے کہ اس کے متعلق مکمل وضاحت کرکے سوال دوبارہ ای میل کردے ، تو اس پر غوروفکر کے بعد انشاءاللہ حکمِ شرعی سے اگاہ کیا جائے گا ۔
فی الدر المختار : (و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) و الأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها و إن شاغلاً لا ، فلو وهب جرابًا فيه طعام الواهب أو دارًا فيها متاعه ، أو دابةً عليها سرجه و سلمها كذلك لا تصح ، و بعكسه تصح في الطعام و المتاع و السرج فقط ؛ لأنّ كلاًّ منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به ؛ لأن شغله بغير ملك واهبه لايمنع تمامها كرهن و صدقة ؛ لأن القبض شرط تمامها و تمامه في العمادية ۔(5/690)۔
و فی الفتاوى التاتارخانیة : "و في المنتقى عن أبي يوسف : لايجوز للرجل أن يهب لامرأته و أن تهب لزوجها أو لأجنبي دارًا و هما فيها ساكنان ، و كذلك الهبة للولد الكبير ؛ لأن يد الواهب ثابتة علي الدار .(14/431)۔