السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب!
ایک آدمی کو میں نے 2018 میں 50 ہزار ریال دیے کاروبار کے لئے ، میں سعودیہ میں رہتا ہوں، اور وہ آدمی بھی سعودیہ میں رہتا تھا، اور کاروبار اسلام آباد میں تھا، ہم تین شراکت دار تھے ۔ ان کے ساتھ ایک مخصوص پرسنٹیج پر طے ہوا تھا ، لیکن بعد میں انہوں نے پرسنٹیج کم کر کے بتائے ۔ ابھی بات چل رہی تھی درمیان میں ہی تھی، لیکن پیسے میں دے چکا تھا، پھر میں نے ان سے کہا کہ جی میں نے کاروبار نہیں کرنا ، لہذا میرے پیسے واپس کر دیے جائیں ۔ اس وقت ریال کا ریٹ 36 کا تھا، 2018 سے آج 2023 ہو رہا ہے، وہ مجھے تھوڑی تھوڑی کر کے رقم دے رہے ہیں ۔ کیا میں ان سے رقم پاکستانی روپوں میں آج کے دن کے ریٹ میں لوں یا اسی ریٹ پر ، یا ریال میں لوں ؟ کیونکہ میں نے ان کو ریال دیے تھے۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق سائل نے 2018 میں اگر کسی شخص کو کاروبار کیلئے پچاس ہزار ریال دیے تھے، پھر کسی وجہ سے یہ معاملہ ختم ہوا، تو سائل کے مطالبے پر مذکور شخص کے ذمہ سائل کو پچاس ہزار ریال واپس کرنالازم اور ضروری تھا، لیکن اگر اس نے وہ ریال واپس نہ کیے ہوں، تو اب اس کے ذمہ سائل کو وہ ریال واپس کرنا یا اگر سائل ریال کے بجائے پاکستانی روپے لینے پر رضامند ہو ، تو موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق اسکے ذمہ سائل کو پاکستانی روپے واپس کرنالازم اور ضروری ہوگا۔
كما في رد المحتار: مطلب الديون تقضى بأمثالها (قوله بل وصف للذمة إلخ) ولهذا قيل إن الديون تقضى بأمثالها على معنى أن المقبوض مضمون على القابض لأن قبضه بنفسه على وجه التملك ولرب الدين على المدين مثله فالتقى الدينان قصاصا وتمامه في البحر اھ (۳/848)-
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0