السلام علیکم !
میں کسی صاحب سے قرضہ لے رہا ہوں ، اور اس کا طریقہ کار یہ ہے ، کہ وہ مجھ سے میرے گھر کا پورشن 80,0000 میں خرید رہے ہیں ، اور گھر کی فائل اپنے پاس رکھیں گے ، اور دو سال میں مجھ سے 85,0000 لے کر مجھے فائل واپس کر دیں گے ، کیا یہ معاملہ سود کا تو نہیں اور کہیں میں گناہ تو نہیں کرنے جارہا؟ اللہ مجھے سیدھا راستہ دکھائے اور میری مدد فرمائے آمین ، مہربانی ہوگی ، رہنمائی فرمائیں ۔
سوال میں ذکر کردہ طریقہ کار کے مطابق خریداری کا معاملہ کرنا فقہاء کی اصطلاح میں بیع عینہ کہلاتا ہے ، جوقرض پر سود کے حصول کا ایک طریقہ ہے ، لہذا اس طرح معاملہ کرنا شرعاً جائز نہیں اس سے اجتناب لازم ہے ۔
کما فی الدرالمختار: (أمر ) الأصل (کفیلہ ببیع العینہ) أی بیع العین بالربح نسئیۃً لیبیعھا المستقرض بأقل لیقضی دینہ ، اخترعہ أکلۃ الربا ، وھو مکروہ مذموم شرعا لما فیہ من الأعراض عن مبرۃ الاقراض الخ (ج5ص 325 مطل فی بیع العینہ ط سعید ) ۔
و فی ردالمحتار :تحت (قولہ وھو مکروہ ) أی عند محمد (الی قولہ ) ھذا البیع فی قلبی کأمثال الجبال ذمیم اخترعہ أکلۃ الربا ، وقد ذمھم رسول اللہ ﷺ فقال : إذ تبایعتم بالعینۃ واتبعتم أذناب البقر ذللتم وظھر علیکم عدوکم الخ (ج5 ص 325 مطلب بیع العینۃ ط سعید ) ۔
و فی ردالمحتار : تحت (قولہ فی بیع العینۃ ) (الی قولہ ) و قال بعضھم ھی أن یدخلا بینھما ثالثاً فیبیع المقرض ثوبہ من المستقرض باثنی عشر درھما و یسلمہ إلیہ ثم یبیعہ المستقرض من الثالث بعشرۃ و یسلمہ ألیہ ثم یبیعہ الثالث من صاحبہ و ھو المقرض بعشرۃ و یسلمہ إلیہ و یأخذہ منہ العشرۃ و یدفعھا للمستقرض فیحصل للمستقرض عشرۃ و لصاحبہ الثوب علیہ اثنا عشرۃ درھماً کذا فی الحیط الخ (ج 5ص 273مطلب فی بیع العینہ ط سعید ) ۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0