کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام درجِ ذیل مسئلہ کےبارے میں کہ زید کے تین بھائی اور 2 بہنیں ہیں، زید نے والد صاحب کی وفات کے بعد گھر کی تمام ذمہ داریاں اپنے سر لیں اور بامرِ مجبوری بہن بھائیوں کی شادیاں اور والدہ کا علاج و معالجہ بھی کروایا ، ان تمام اخراجات کا کل تخمینہ انھوں نے 15 لاکھ لگایا ہے ،اس وقت وہ والد صاحب کی وراثت تقسیم کرنا چاہتے ہیں اور زید کا مدعا یہ ہے کہ انہیں وراثت میں سے بہن بھائیوں کی شادیوں میں ہونے والے اخراجات واپس لوٹائے جائیں ،لہٰذا مؤدبانہ عرض ہے کہ شریعت کی رو سے واضح فرمائیں کہ کیا زید اپنے بہن بھائیوں کی وراثت میں سے سابقہ اخراجات لے سکتا ہے ؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق زید نے اگرچہ والدِ مرحوم کی وفات کے بعد گھریلو ذمہ داریاں پوری کرنے اور بہن بھائیوں کی شادیاں کرانے میں رقم خرچ کی ہو ،لیکن اس کے متعلق اگر زید نے قرض یا بعد میں ترکے سے وصول کرنے کی صراحت نہ کی ہو تو ایسی صورت میں یہ زید کی طرف سے تبرع اور احسان شمار ہوگا ،جس کا اب زید کو مطالبے کا حق حاصل نہیں،تاہم زید کے چھوٹے بہن بھائیوں کا اخلاقی فرض بنتا ہے کہ بڑے بھائی کے احسانات کےعوض اسے ترکہ میں سے اس کے حصے سے کچھ زیادہ دیکر اس کے احسانات کا بدلہ دینے کی کوشش کریں۔
فی مشکا ۃ المصابیح : "عن سلمان بن عامر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " الصدقة على المسكين صدقة و هي على ذي الرحم ثنتان , صدقة و صلة ". رواه أحمد و الترمذي و النسائي و ابن ماجه و الدارمی(1/604)۔
و فی تنقيح الفتاوى الحامدية : "المتبرع لايرجع بما تبرع به على غيره ، كما لو قضى دين غيره بغير أمره .( 2/ 391)۔