وضو

کیا عام جرابوں پر مسح کرسکتے ہیں؟

فتوی نمبر :
62780
| تاریخ :
2023-03-09
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

کیا عام جرابوں پر مسح کرسکتے ہیں؟

میں ایک بنک میں کام کرتا ہوں، عام طور پر ظہر، عصر اور مغرب کی نماز بنک میں ہی پڑھی جاتی ہے، وضو کے دوران کچھ لوگ جرابوں کے اوپر ہی مسح کر لیتے، یا گیلا ہاتھ پھیر لیتے ہیں، اور پورے پاؤں نہیں دھوتے، جبکہ کچھ لوگ وضو میں بوٹ جرابیں اتار کر سلیپر پہن کر پورا وضو کرتے ہیں، جرابوں پے گیلا ہاتھ پھیرنے والوں کا کہنا ہے کہ صبح تیار ہوتے وقت بوٹ جرابیں پہننے سے پہلے وضو کرتے ہیں، پھر دن میں وضو ٹوٹ بھی جائے ، تو جرابوں پر مسح یا گیلا ہاتھ پھیرنا ہی کافی ہوتا ہے، اس سلسلے میں رہنمائی فرمائیں کہ صبح وضو کر کے جرا بیں پہن لی جائے ، اور پھر سارا دن انہیں جرابوں پے گیلا ہاتھ پھیر کر یا مسح کر کے وضو کریں تو نماز ہو جائے گی ؟ بہت شکریہ.

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مروجہ جرابوں پر مسح کرنا تو شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ اونی ، سوتی موزے اور جرا بیں اگر اس قدر موٹے ہوں کہ انہیں پہن کر جوتے کے بغیر تین میل پیدل چلیں، تو تب بھی نہ پھٹیں ، اور وہ پنڈلی پر بغیر ربڑ یا کسی چیز کے باندھے قائم رہ سکیں ، اور ان میں پانی نہ چھنتا ہو تو یہ چمڑے کے موزوں کے حکم میں ہونگے ، چنانچہ ایسے موزوں اور جرابوں پر مسح کرنا بھی جائز ہو گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (أ و جوربيه) و لو من غزل أ و شعر (الثخينين) بحيث يمشي فرسخا و يثبت على الساق و لا يرى ما تحته و لا يشف إلا أن ينفذ إلى الخف قدر الفرض اھ (1 /269)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حماد منظور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 62780کی تصدیق کریں
0     761
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات