میری بیوی سعودی عرب میں رہ رہی ہیں، میرا ایک بیٹا بھی ہے ایک سال کا ، میری بیوی کے بھائی سعودیہ عرب سے آئے اور میرے والد سے کہنے لگے ہمیں طلاق چاہیئے ابھی آج ہی، انہوں نے میرے نام سے اسٹام پیپر نکلوایا مجھ سے پوچھے بغیر، اور اوپر اپنی مرضی کی تحریر لکھوائی اس پر تین طلاق ایک ساتھ لکھی ہوئی تھی ایک ہی پیپر پر ،مجھے بولا اس پر دستخط کرو ،میں نے جب اسٹام پیپر دیکھا میں ایک دفعہ پریشان ہو گیا، میں نے کہا میں دستخط نہیں کروں گا ،وہ لوگ میرے ابو کو روز پریشان کرتے تھے ، ابو نے کہا بیٹا دستخط کردو،ورنہ لڑائی ہو جائے گی، میرے ابو ان سے ڈرتے تھے، ان کے ڈر کی وجہ سے انہوں نے مجھے پریشان کر دیا ، مجھے سمجھ نہ آئے اب کیا کروں ،میں نے اس موقع پر پریشر میں آکر دستخط کر دیے، کیا میری طلاق واقع ہوگئی ہے ؟میں اپنی بیوی کو طلاق نہیں دینا چاہتا،مہربانی فرما کر بتائیں کیا اب بھی وہ میری بیوی ہیں؟میرے نکاح میں ہیں؟ میرا ایک بیٹا بھی ہے،ابھی دو ماہ ہوئے ہیں اس بات کو , 16 دسمبر کو انہوں نے مجھ سے دستخط کروائے ہیں۔
سائل نے جب تین طلاقوں والے طلاق نامہ پر دسخط کردیے ہیں تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ،جبکہ عورت عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0