السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
عرض یہ ہے کہ ہمارے گاؤں میں ایک پرانی مسجد بنی ہوئی ہے، جس کی زمین مسجد اور اس کے امام کے ذریعہ معاش کے لئے پرانے زمانے میں وقف کی گئی تھی، لیکن اب چونکہ گاؤں کی آبادی بڑھنے کی وجہ سے دوسری نئی مسجد بنانے کی ضرورت ہے اور پرانی مسجد کی اراضی اس جگہ پر بنجر حالت میں (غیر مستعمل) موجود ہے، جہاں نئی مسجد بنانے کی ضرورت ہے، سوال یہ ہے کہ مذکورہ زمین پر دوسری نئی مسجد تعمیر کرسکتے ہیں؟ مسجد کے علاوہ مدرسہ اور جنازہ گاہ بھی بنائی جاسکتی ہے یا نہیں؟ براہ مہربانی فتویٰ دیدیں۔
اگر پرانی مسجد کو اس کے اخراجات کے لئے وقف کی گئی زمین کی ضرورت باقی نہ رہی ہو اور اب وہ بنجر حالت میں موجود ہو،تو ایسی صورت میں عدالتی اجازت نامہ،یا گاؤں والوں کی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے وہاں پر نئی مسجد تعمیر کرنا جائز ہے،جبکہ مسجد کے علاوہ مدرسہ اور جنازہ گاہ وغیرہ کے لئے اس زمین کو استعمال کرنا درست نہیں۔
کمافی الشامیة: فان شرائط الواقف معتبرة اذا لم تخالف الشرع وھو مالك اھ(4/343)۔
وفی الھندیة: أرض وقف على مسجد والأرض بجنب ذلك المسجد وأرادوا أن يزيدوا في المسجد شيئا من الأرض جاز لكن يرفعوا الأمر إلى القاضي ليأذن لهم، ومستغل الوقف كالدار والحانوت على هذا، كذا في الخلاصة. في الكبرى مسجد أراد أهله أن يجعلوا الرحبة مسجدا والمسجد رحبة وأرادوا أن يحدثوا له بابا وأرادوا أن يحولوا الباب عن موضعه فلهم ذلك فإن اختلفوا نظر أيهم أكثر وأفضل فلهم ذلك، كذا في المضمرات اھ(2/456)۔