گزارش ہے کہ میں کافی عرصہ سے بیمار رہتی تھی، میں نے کافی ڈاکٹری علاج کرایا ، لیکن کوئی خاطر خواہ افاقہ نہ ہوا ، میں نے روحانی علاج شروع کیا تو مجھے بتایا گیا کہ تمہارا نام تمہارے مرض کے ساتھ ہے اور تم اپنا نام تبدیل کر لو۔
میں نے اپنا نام ’’فریدہ‘‘ سے ’’ردا ء‘‘ رکھ لیا، اس کے بعد میری طبیعت ٹھیک رہنےلگی اور میں نے مستقل طور پر اپنا نام تبدیل کر لیا اور مجھے سب نئے نام سے بلاتے اور پہچانتے ہیں ، آپ سے استدعا ہے کہ میری راہنمائی فرمائیں کہ آیا نام تبدیل کرنے میں قرآن و سنت اور شرعاً کسی قسم کی کوئی ممانعت تو نہیں ہے ؟ عین نوازش ہوگی۔
نام اگر معنوی لحاظ سے درست نہ ہو تو اس کے بدلنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، لیکن یہ نظریہ رکھنا کہ نام کی وجہ سے بیماری یا آفت آتی ہے درست نہیں، اور اس کی وجہ سے نام تبدیل کرنا بھی درست نہیں ۔
ففی صحيح مسلم: عن ابن عمر: «أن ابنة لعمر كانت يقال لها عاصية فسماها رسول الله صلى الله عليه وسلم جميلة»(3/ 1687)
و فی شرح النووي على مسلم: فِي الْحَدِيثَيْنِ الْآخَرَيْنِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَيَّرَ اسْمَ بَرَّةَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ وَ بَرَّةَ بِنْتِ جَحْشٍ فَسَمَّاهُمَا زَيْنَبَ وَ زَيْنَبَ وَقَالَ لاتزكوا أَنْفُسَكُمُ اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْبِرِّ مِنْكُمْ مَعْنَى هَذِهِ الْأَحَادِيثِ تَغْيِيرُ الِاسْمِ الْقَبِيحِ أَوِ الْمَكْرُوهِ إِلَى حَسَنٍ وَقَدْ ثَبَتَ أَحَادِيثُ بِتَغْيِيرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَاءَ جَمَاعَةٍ كَثِيرِينَ مِنَ الصَّحَابَةِ۔(14/ 120)۔