کیافرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی حضورﷺ کی ازواجِ مطہرات یا بیٹیوں کو بُرا بھلا یا غلط نسبت سے تعبیر کرتا ہے جیسے حضرت خدیجہ الکبریٰؓ کے بارے میں جو لوگ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کے نسب اطہر سے ایک بیٹی حضرت فاطمہؓ پیدا ہوئیں باقی پہلے خاوند سے اولاد ہوئی ، ایسے آدمی کے بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں کیا حکم ہے؟
نوٹ: مذکور شخص شیعہ ہے، اس نے گیارہ سال ایران یونیورسٹی میں پڑھا ہے، وہ محض بغض و عناد کی وجہ سے جھوٹے دلائل گھڑ کر یہ ثابت کرتا ہے کہ العیاذ باللہ حضور ﷺ کے نسبِ اطہر سے صرف ایک بیٹی فاطمہؓ ہیں باقی حضرت خدیجہؓ کی اولاد ان کے پہلے خاوند سے ہے، اور اس طرح کہہ کر وہ لوگوں میں انتشار پھیلا رہا ہے۔
واضح ہو کہ آنحضرت ﷺ کی تمام اولاد حضرت خدیجہؓ کے بطنِ مبارک سے تھی سوائے حضرت ابراہیمؓ کے کہ وہ حضرت ماریہ قبطیہؓ کے بطن سے پیداہوئے اور آنحضرت ﷺکی اولاد حضرت خدیجہؓ سے دو صاحبزادے ( حضرت قاسم اور حضرت عبداللہ ؓ جن کے دولقب طیب و طاہر ہیں) اور چار صاحبزادیاں ( زینب، رقیہ، اُمّ کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہن) ہیں اور یہ احادیث اور تاریخ و سیرت کی مستند کتابوں سے ثابت ہے لہٰذا شخصِ مذکور کا خط کشیدہ جملہ محض تعصّب، عناد اور جہالت پر مبنی ہے جس سے احتراز لازم ہے۔
ففی البداية و النهاية: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَلَدَتْ خَدِيجَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غُلَامَيْنِ وَ أَرْبَعَ نِسْوَةٍ: الْقَاسِمَ، وَعَبْدَ اللَّهِ، وَ فَاطِمَةَ، وَ أُمَّ كُلْثُومٍ، وَ زَيْنَبَ، وَ رُقَيَّةَ.وَ قَالَ الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ عَبْدُ اللَّهِ هُوَ الطَّيِّبُ وَ هُوَ الطَّاهِرُ، وَ أَمَّا إبراهيم فمن ماریة الْقِبْطِيَّةِ الَّتِي أَهْدَاهَا لَهُ الْمُقَوْقِسُ صَاحِبُ إِسْكَنْدَرِيَّةَ (2/ 359)۔
و فی أسد الغابة: رقية بنت رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أمها خديجة بنت خويلد - رضي الله عنهما -. روى الزبير بن بكار، عن عمه مصعب بن عبد الله، أن خديجة ولدت لرسول الله - صلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-فاطمة، و زينب، و رقية، و أم كلثوم. و روى أيضا عن ابن لهيعة، عن أبي الأسود، أن خديجة ولدت للنبي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زينب، و رقية، و فاطمة، و أم كلثوم. و روى محمد بن فضالة ، قال: سمعت أن خديجة ولدت للنبي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زينب، و أم كلثوم، و فاطمة، و رقية، و قيل: إن فاطمة أصغرهن عليهن السلام اه (7/ 114)۔
و فی أسد الغابة: زينب بنت رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هي أكبر بناته، ولدت و لرسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثلاثون سنة، و ماتت سنة ثمان في حياة رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خديجة بنت خويلد بن أسلم اه(7/ 131)۔
حضورﷺ سے چاندی کی انگوٹھی اور نگینہ کا استعمال ثابت ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 0آنحضرتؐ اور حضرت علیؓ کی نمازِ جنازہ اور تدفین سے متعلق تفصیل
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 0آپؐ نور ہے یا بشر؟ اور ’’الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ ‘‘ کہنا
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 1کیا نبی کریم ﷺ نے معراج میں تمام مراحل براق سواری سے طے کۓ ؟
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 0حضورِ اکرم ﷺ سے زندگی میں کبھی کوئی نماز قضاء ہوئی ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 0