آپ حضرات سے کچھ سولات کے جوابات مطلوب ہیں، ہو سکتا ہے کہ ان کی وجہ سے ایک غیر مسلم اسلام میں داخل ہو جائے، وہ غیر مسلم ہندو ہے۔
ا۔ آپؐ کی نماز جنازہ ہوئی یا نہیں؟
۲۔ اگر ہوئی ہے تو کس نے پڑھائی ہے؟
۳۔ آپؐ کی نماز جنازہ میں کتنے لوگ شریک تھے؟
وہ غیرمسلم کہتا ہے کہ صرف سات(7) افراد تھے۔ اگر یہ بات سہی ہے تو اس کی کیا وجہ ہے باقی مسلمان کہاں تھے؟ اور یہ باتیں وہ حضرت فاطمہ اور حضرت حسنؓ و حسینؓ کے بارے میں بھی کہتا ہے اور اگر کوئی ایسا شرعی عذرتھا تو وہ عذر کیا تھا؟ اس کی تفصیل بتائیں۔
مسلمانوں کے پیغمبر حضرت محمد ﷺ کی نماز جنازہ تمام مسلمانوں، بلکہ فرشتوں نے بھی پڑھی ہے، مگر آپﷺ کی وصیت کے مطابق جنازہ اس طرزپر نہیں پڑھایا گیا، جس طرح عام اموات کا پڑھا یا جاتا ہے اور کسی کو امام نہیں بنایا گیا، کیونکہ آپ خود امام مطلق تھے، بلکہ آپ کا جنازہ حضرت عائشہؓ کے حجرہ میں رکھوایا گیا اور لوگ باری باری آکر آپ کی نماز جنازہ پڑھتے رہے یہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خصوصیات میں سے ہے، جبکہ حضرت فاطمہؓ اور حضرت حسن وحسین رضی اللہ عنہما کے بھی جنازے پڑھے گئے ،حتی کہ حضرت حسنؓ کے جنازہ میں اتنے کثیر تعداد میں لوگ شریک تھے کہ تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کثرتِ ازدحام کی وجہ سے بقیع میں سوئی کے بقدر بھی جگہ نہیں تھی۔
ففی البدایة و النھایة: عن ابن مسعود: في وصية النبي - صلى الله عليه وسلم - أن يغسله رجال أهل بيته، و أنه قال: كفنوني في ثيابي هذه أو في يمانية أو بياض مصر، و أنه إذا كفنوه يضعونه على شفير قبره ثم يخرجون عنه حتى تصلي عليه الملائكة، ثم يدخل عليه رجال أهل بيته فيصلون عليه، ثم الناس بعدهم فرادى اھ( 4/242)۔
و فیه ایضاً: عن عكرمة عن ابن عباس - رضی اللہ عنہ- قال: لما مات رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أدخل الرجال فصلوا عليه بغير إمام أرسالا حتى فرغوا، ثم أدخل النساء فصلين عليه، ثم أدخل الصبيان فصلوا عليه، ثم أدخل العبيد فصلوا عليه أرسالا، لم يأمهم على رسول الله -صلى الله عليه وسلم- اھ(4/242)۔
و فیها ایضاً: وقد قال بعض العلماء إنما لم يؤمهم أحد ليباشر كل واحد من الناس الصلاة عليه منه إليه، و لتكرر صلاة المسلمين عليه مرة بعد مرة من كل فرد فرد من آحاد الصحابة رجالهم ونساءهم وصبيانهم حتى العبيدوالاماء اھ(4/243)۔
و فی الإصابة تمیز فی الصحابة: و قال الواقدی توفیت فاطمة لیلة الثلاثاء لثلاث خلون من شھر رمضان سنة إحدی عشرة (إلی قوله) و من طریق عمرة: صلی العباس علی فاطمة و نزل حفرتھا ھو و علی و الفضل و من طریق علی بن حسین أن علیاً صلی علیھا و دفنھا بلیل بعد ھدأة اھ (8/268)۔
و فی البدایة و النھایة: وقال محمد بن إسحاق: حدثني مساور مولى بني سعد بن بكر قال: رأيت أبا هريرة قائما على مسجد رسول الله يوم مات الحسن بن علي و هو ينادي بأعلا صوته: يا أيها الناس مات اليوم حب رسول الله فابكوا و قد اجتمع الناس لجنازته حتى ما كان البقيع يسع أحدا من الزحام اھ(5/533)۔
و فی الإصابة تمیز فی الصحابة: قال الواقدی حدثنا داود بن سنان حدثنا تعلبة بن أبی مالك شھدت الحسن یوم مات و دُفن فی البقیع فرأیت البقیع و لو طرحت فیه إبرة ما وقعت إلا علی رأس إنسان اھ (2/65)۔
و فيها ايضا: قال الزبیر بن بکار: قتل الحسین یوم عاشورا سنة احدی و ستین و کذا قال الجمھور و شذ من قال غیر ذلك اھ (2/72)۔
حضورﷺ سے چاندی کی انگوٹھی اور نگینہ کا استعمال ثابت ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 0آنحضرتؐ اور حضرت علیؓ کی نمازِ جنازہ اور تدفین سے متعلق تفصیل
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 0آپؐ نور ہے یا بشر؟ اور ’’الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ ‘‘ کہنا
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 1کیا نبی کریم ﷺ نے معراج میں تمام مراحل براق سواری سے طے کۓ ؟
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 0حضورِ اکرم ﷺ سے زندگی میں کبھی کوئی نماز قضاء ہوئی ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 0