کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آیا یہ مسئلہ درست ہے یا نہیں؟ کہ میرے موبائل فون پر ایک ایسا میسج آیا کہ ایسا کونسا کام ہے جس کے کرنے والے کو اللہ تعالیٰ بہت پسند کرتا ہے، لیکن حضرت محمدﷺ نے وہ کام نہیں کیا؟
جواب: حضور پاکؐ نے کبھی اذان نہیں دی تھی ، کیونکہ اگر آپﷺ اذان دیتے تو کائنات کی ہر چیز مسجد میں آجاتی اور نظامِ کائنات کی ہر چیز مسجد میں آجاتی اور نظام کائنات تباہ ہو جاتا ، یہ میسج مجھے اچھا لگا اور یہ میسج میں نے اپنے دوستوں کو بھی بھیجا ، جن میں ایک دوست نے یہی میسج ایک امام مسجد کو بھیجا ،اس کے جواب میں امام صاحب نے ایک حدیث بھیجی کہ جو شخص حضورؐ پاک کے نام سے کوئی بھی چیز بغیر تحقیق کے بیان کرے گا تو اُس شخص کا ٹھکانا جہنم ہے۔
۱۔ یہ اذان والا میسج جو میں نے تحریر کیا ہے، کیا یہ کوئی حدیث ہے؟
۲۔ اس میسج کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
اگرچہ مشہور یہی ہے جس کا ذکر میسج میں کیا گیا ہے، لیکن یہ میسج مذکور تفصیلات کے ساتھ ، بے اصل و بِلاتحقیق ہے، جبکہ تحقیقی بات یہ ہے جو ’’تقریراتِ رافعی‘‘ میں علامہ سیوطیؒ کے حوالے سے ایک مرسل روایت سےمنقول ہے کہ آپﷺ نے ایک بار اذان دی ہے، اس لیے بِلاتحقیق ایسے میسج کی تشہیر کرنا ،کہ جس سے آپﷺ کی توہین کا پہلو نکلتا ہو ، نہ صرف ناجائز ہے، بلکہ اپنی آخرت کو بھی تباہ کرنے کے مترادف ہے ، اس لیے اس طرح کے میسج کا تبادلہ اور تشہیر کرنے سے احتراز لازم ہے۔
ففی الدر المختار: و في الضياء «أنه - عليه الصلاة والسلام - أذن في سفر بنفسه و أقام و صلى الظهر» و قد حققناه في الخزائن. (1/ 401)۔
و فی العرف الشذي شرح سنن الترمذي: عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ - النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فِي سَفَرٍ، فَانْتَهَوْا إِلَى مَضِيقٍ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَمُطِرُوا، السَّمَاءُ مِنْ فَوْقِهِمْ، وَالبِلَّةُ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ، " فَأَذَّنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَ هُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ(إلی قوله): (فأذن رسول الله. . إلخ) قال النووي: يدل الحديث على أنه -عليه الصلاة والسلام - أذن بنفسه في هذه الواقعة و قال الحافظ: سها النووي فإن في بعض طرق الحديث أمر بلالاً ليؤذن، و قال السيوطي في حاشية السنة: إنه عليه الصلاة والسلام أذن في واقعة أخرى و أتى برواية من طبقات ابن سعد. (1/ 389)۔
و فی شرح الزرقاني على الموطأ: هَلْ بَاشَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأَذَانَ بِنَفْسِهِ؟ وَقَدْ رَوَى التِّرْمِذِيُّ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَذَّنَ فِي سَفَرٍ وَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ وَ هُمْ عَلَى رَوَاحِلِهِمُ السَّمَاءُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَالْبِلَّةُ مِنْ أَسْفَلِهِمْ» ، قَالَ السُّهَيْلِيُّ: فَنَزَعَ بَعْضُ النَّاسِ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَذَّنَ بِنَفْسِهِ، لَكِنْ رَوَى الْحَدِيثَ الدَّارَقُطْنِيُّ بِسَنَدِ التِّرْمِذِيِّ وَ مَتْنِهِ وَ قَالَ فِيهِ: فَأَمَرَ بِالْأَذَانِ فَقَامَ الْمُؤَذِّنُ فَأَذَّنَ، وَ الْمُفَصَّلُ يَقْضِي عَلَى الْمُجْمَلِ الْمُحْتَمَلِ، انْتَهَى.وَ تَبِعَ هَذَا الْبَعْضَ النَّوَوِيُّ فَجَزَمَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَذَّنَ مَرَّةً فِي سَفَرِهِ(1/ 263)۔
حضورﷺ سے چاندی کی انگوٹھی اور نگینہ کا استعمال ثابت ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 0آنحضرتؐ اور حضرت علیؓ کی نمازِ جنازہ اور تدفین سے متعلق تفصیل
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 0آپؐ نور ہے یا بشر؟ اور ’’الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ ‘‘ کہنا
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 1کیا نبی کریم ﷺ نے معراج میں تمام مراحل براق سواری سے طے کۓ ؟
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 0حضورِ اکرم ﷺ سے زندگی میں کبھی کوئی نماز قضاء ہوئی ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 0