(۱) مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ ہمارے نبیﷺ نور ہیں یا بشر؟ (۲) المدد یا رسول اللہ کہنا درست ہے یا نہیں؟ (۳) کیا حاضر وناظر جانے بغیر ’’الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہﷺ‘‘ پڑھنا درست ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں بتائیں اور قرآن وحدیث کا اردو ترجمہ بھی ارسال کریں۔
(۱) آنحضرتﷺ اپنی ذات کے لحاظ سے نہ صرف نوع بشر میں داخل ہیں، بلکہ افضل البشر ہیں، نہ صرف انسان ہیں، بلکہ نوع انسانی کےسردار ہیں، نہ صرف حضرت آدم علیہ السلام کی نسل سے ہیں، بلکہ آدم علیہ السلام واولادِ آدم علیہ السلام کے لیے سرمایہ صدِ افتخار ہیں۔ جس طرح آپﷺ اپنی نوع کے اعتبار سے بشر ہیں اسی طرح آپﷺ صفتِ ہدایت کے لحاظ سے ساری انسانیت کے لیے مینارہ نور ہیں، یہ وہ ’’نور‘‘ ہے جس کی روشنی میں انسانیت کو خدا تعالیٰ کا راستہ مل سکتاہے، لہٰذا آپﷺ بیک وقت نور بھی اور بشر بھی۔ ان میں سے ایک کی نفی اور دوسرے کا اثبات قطعاً غلط ہے، اور اس کو جھگڑے نزاع کی بنیاد دینا بہت بڑا دھوکہ ہے۔ (ماخوذ از ’’اختلاف امت اور صراط مستقیم‘‘ بتغیر یسیر)
قال اللہ تعالی في القرآن الکریم: قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا۔(الکھف:۱۱۰)۔
ترجمہ: آپ کہہ دیجیے کہ میں تو تم سب کی طرح ایک بشر ہوں، میرے پاس اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے اور تمہارا معبود برحق ایک ہی معبود ہے تو جو شخص اپنے رب سے ملنے کی آرزو رکھے تو نیک کام کرتارہے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔
وقال تعالی: قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولً ۔ الآية(الاسراء:۹۳)۔
ترجمہ: آپ فرمادیجیے کہ سبحان اللہ میں کون ہوں مگر ایک آدمی ہوں بھیجا ہوا۔
چنانچہ معجم الکبیر میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت سے ایک واقعہ مذکور ہے، جس میں آپﷺ سے نماز میں بھول چوک کا ذکر آتاہے، جس میں یہ الفاظ آتے ہیں:
عن عبد الله : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه صلى خمسا فلما انصرف قيل : يا رسول الله أزيد في الصلاة ؟ قال : لا وماذاك ؟ قالوا : فإنك صليت خمسا قال : فإنما أنا بشر مثلكم أذكر كما تذكرون وأنسى كما تنسون ثم سجد سجدتي السهو اه(10/ 31)
میں بھی آپ کی طرح ایک بشر (انسان) ہوں، جس طرح آپ لوگ بھول جاتے ہیں، میں بھی بھول جاتا ہوں ،لہٰذا جب کبھی مجھ سے بھول ہوتو یاد دہانی کرلیا کرو۔
(۲،۳) مافوق الاسباب اور آپ علیہ لسلام کو حاضر وناظر سمجھنے کا عقیدہ فاسدہ کے ساتھ ’’المدد یارسول اللہﷺ‘‘ کہنا اور سی طرح ’’الصلوة والسلام علیك یا رسول اللہ‘‘ پڑھنا بلاشبہ ناجائز، بلکہ شرک ہے۔ جس کی جابجا قرآن وسنت میں نفی فرمائی گئی ہے اور اگر اس اعتقاد کے ساتھ نہ ہو، بلکہ محض عشق ومحبت اور ذوق وشوق میں یا یہ سمجھ کر کہ ’’ملائکہ سیاحین‘‘ وغیرہ میری صدا اور درود نبی کریمﷺ تک پہنچادیں گے، یہ اگرچہ ناجائز اور شرک نہیں اور بزرگانِ دین کے کلام واشعار میں جابجا مستعمل ہے، لیکن موجودہ دور میں یہ عقیدہ فاسدہ رکھنے والے اہلِ بدعت کا شعار بن چکاہے، اس لیے اس طرح کے الفاظ کہنے میں تشبہ بالمبتدعین ہے جس سے احتراز لازم ہے۔
کما قال اللہ تعالیٰ: {وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ } [الأنفال: 10]
ترجمہ: اور مدد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہےجو زبردست حکمت والے ہیں۔
وفي مرقاة المفاتیح: (وعنه) : أي عن ابن عمر (قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - (من تشبه بقوم) : أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار. (فهو منهم) : أي في الإثم والخير. قال الطيبي: هذا عام في الخلق والخلق والشعار، ولما كان الشعار أظهر في التشبه ذكر في هذا الباب. قلت: بل الشعار هو المراد بالتشبه لا غير اھ (۸/۱۵۵)۔
مفہوم: حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ جو شخص کسی قوم جو فاسق وفاجر وغیرہ ہو ،اس کی مشابہت اختیار کرے گا تو وہ گناہ وغیرہ میں انہی میں سے ہوگا۔واللہ اعلم بالصواب!
حضورﷺ سے چاندی کی انگوٹھی اور نگینہ کا استعمال ثابت ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 0آنحضرتؐ اور حضرت علیؓ کی نمازِ جنازہ اور تدفین سے متعلق تفصیل
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 0آپؐ نور ہے یا بشر؟ اور ’’الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ ‘‘ کہنا
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 1کیا نبی کریم ﷺ نے معراج میں تمام مراحل براق سواری سے طے کۓ ؟
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 0حضورِ اکرم ﷺ سے زندگی میں کبھی کوئی نماز قضاء ہوئی ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 0