1۔مولانا طارق جمیل صاحب اللہ ان کو برکت دے ،اکثر بیانات میں آپ ﷺکی تاریخ پیدائش 12ربیع الاول 22اپریل اور منگل کی صبح چار بجکر بیس منٹ بتاتے ہیں ۔اور آپ اکثر فتووں میں ۸ ربیع الاول ؟
2۔اگر کوئی آپﷺ کی ولادت کادن اس نیت سے منائے کہ کنڈے کے بجائے اپنے گھر کی لائٹ استعمال کرے اور دیگر نمود ونمائش کے بجائے ایصال ثواب کی نیت سے میلاد وقرآن خوانی کرائیں اور کچھ کھا نا بناکر بھوکوں کو اس نیت سےکھلایا جائے کہ اس کا ثواب بھی ایصال ثواب کرائیں گے ،کیونکہ اس دن اللہ کے حبیب دنیا میں آئے ۔اللہ نے ہمارے نبی کو بھیجا ،تو کیا صحیح ہے ؟
مشہور قول تو وہی ہے جو حضرت مولانا موصوف بتاتے ہیں کہ حضور ﷺکی ولادت مبارک 12ربیع الاول کو ہوئی ۔لیکن اصح قول کے اعتبار سے آپ ﷺ کا یوم ولادت 8ربیع الاول ہے ۔
جہاں تک قرآن خوانی اور صدقات کا تعلق ہے وہ بلا تخصیص ہر وقت جائز ہے ۔مگر اس امور کو اس دن کے ساتھ خاص کرکے ، زیادہ باعث ثواب سمجھنا اور ضرورت سے زیادہ لائٹنگ کرنا ،جبکہ تاریخ ولادت ہی متعین نہیں، بلکہ مختلف فیہ ہے ، اپنی طرف سے تاریخ خاص کرنا مزید یہ کہ اس میں بدعتی لوگوں سے مشابہت بھی ہے درست نہیں ۔
فی البداية والنهاية: وَهَذَا مَا لَا خِلَافَ فِيهِ أَنَّهُ وُلِدَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلَّم يَوْمَ الِاثْنَيْنِ.( إلی قولہ) ثُمَّ الْجُمْهُورُ عَلَى أنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ فَقِيلَ لِلَيْلَتَيْنِ خَلَتَا مِنْهُ ( إلی قولہ) وَقِيلَ لِثَمَانٍ خَلَوْنَ مِنْهُ حَكَاهُ الْحُمَيْدِيُّ عَنِ ابْنِ حَزْمٍ. وَرَوَاهُ مَالِكٌ وَعُقَيْلٌ وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ وَغَيْرُهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ وَنَقَلَ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ عَنْ أَصْحَابِ التَّارِيخِ أَنَّهُمْ صَحَّحُوهُ وَقَطَعَ بِهِ الْحَافِظُ الْكَبِيرُ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْخُوَارِزْمِيُّ وَرَجَّحَهُ الحافظ أبو الخطاب بن دِحْيَةَ فِي كِتَابِهِ التَّنْوِيرِ فِي مَوْلِدِ الْبَشِيرِ النَّذِيرِ وَقِيلَ لِعَشْرٍ خَلَوْنَ مِنْهُ نَقَلَهُ ابْنُ دِحْيَةَ فِي كِتَابِهِ وَرَوَاهُ ابْنُ عَسَاكِرَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْبَاقِرِ وَرَوَاهُ مُجَالِدٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ كَمَا مَرَّ. وَقِيلَ لِثِنْتَيْ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْهُ نَصَّ عَلَيْهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي مُصَنَّفِهِ عَنْ عَفَّانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَا عَنْ جَابِرٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمَا قَالَا: وُلِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الفيل يوم الاثنين الثامن عَشَرَ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ وَفِيهِ بُعِثُ وَفِيهِ عُرِجَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ وَفِيهِ هَاجَرَ وَفِيهِ مَاتَ. وَهَذَا هُوَ الْمَشْهُورُ عِنْدَ الْجُمْهُورِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَقِيلَ لِسَبْعَ عَشْرَةَ (1) خَلَتْ مِنْهُ كَمَا نَقَلَهُ ابْنُ دِحْيَةَ عَنْ بَعْضِ الشِّيعَةِ. وَقِيلَ لِثَمَانٍ بَقِينَ مِنْهُ نَقَلَهُ ابْنُ دِحْيَةَ من خط الوزير أبي رافع بن الحافظ أبي محمد بن حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ وَالصَّحِيحُ عَنِ ابْنِ حَزْمٍ الْأَوَّلُ أَنَّهُ لِثَمَانٍ مَضَيْنَ مِنْهُ كَمَا نَقَلَهُ عَنْهُ الْحُمَيْدِيُّ وَهُوَ أَثْبَتُ. و ھکذا فی السیرۃ النبویۃ الابن کثیر ۔(2/ 319،320) واللہ أعلم بالصواب!
حضورﷺ سے چاندی کی انگوٹھی اور نگینہ کا استعمال ثابت ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 0آنحضرتؐ اور حضرت علیؓ کی نمازِ جنازہ اور تدفین سے متعلق تفصیل
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 0آپؐ نور ہے یا بشر؟ اور ’’الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ ‘‘ کہنا
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 1کیا نبی کریم ﷺ نے معراج میں تمام مراحل براق سواری سے طے کۓ ؟
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 0حضورِ اکرم ﷺ سے زندگی میں کبھی کوئی نماز قضاء ہوئی ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 0