السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: قبرستان کی زمین پر اگر راستہ بن رہا ہو یا عمارت بن رہی ہو تو کیا حکم ہے؟ قبروں کو کھول کر بوسیدہ ہڈیاں جمع کرکے ایک جگہ دفنایا جائے؟ یا اوپر سے راستہ یا عمارت بنا دی جائے؟ جزاک اللہ خیراً
واضح ہوکہ جو زمین قبرستان کے لئے وقف کی گئی ہو،اس پر ذاتی کوئی عمارت بنانا جائز نہیں، اسی طرح قبرستان کی زمین میں لوگوں کے گزرنے کے لئے مستقل راستہ بنانا بھی جائز نہیں،البتہ قبرستان کے علاوہ دوسری جگہ سے راستہ بنانے کی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو مفادِ عامہ کے تحت قبرستان کی بقیہ جگہ اور ان قبروں کی جگہ کو جو قبریں پرانی ہوچکی ہوں کہ اب ان میں سوائے بوسیدہ ہڈیوں کے کچھ باقی نہ رہا ہو تو انتظامیہ کی مشاورت سے وہاں راستہ بنانے کی گنجائش ہے، تاہم اس دوران اگر پرانی قبروں سے ہڈیاں نکل آئیں تو انہیں احترام کے ساتھ کسی جگہ دفن کیا جائے، جبکہ قبرستان کے اوپر سے اگر پل ڈال کر راستہ بنایا جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔
کما فی الدرالمختار: ولو بلي الميت وصار ترابا جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه اهـ(2/233)۔
وفي الھندیة: ولو بلی المیت وصار ترابا جاز دفن غیرہ في قبرہ وزرعه والبناء علیه،کذا فی التبیین اھ(1/167)۔
وفی تبیین الحقائق: ولو بلي الميت وصار ترابا جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه اهـ (1/246)۔