کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ چھوٹا پیشاب کرنے کے بعد اُٹھنے بیٹھنے سے، چلنے دوڑنے سے، قطرے نکل جاتے ہیں، دواؤں کے استعمال سے مکمل افاقہ نہیں۔ (صفحہ کا آخر دو سطریں ملاحظہ فرمائیں۔)
مسئلہ اس طرح سن رکھا ہے کہ پیشاب کے بعد انڈرویئر کے نیچے ٹشو رکھیں، آدھ گھنٹہ انتظار کریں، ٹشو نکال کر طہارت حاصل کریں، وضو کریں اور بس اب وہم نہ کریں ،میں ایسا ہی کرتا ہوں۔
پیشاب اگر ٹشو سے سِم کر انڈرویئر پہ لگ جائے پرانے روپیہ جتنا یا زیادہ، تو ایسا انڈروئیر پہن کر کتنی نمازیں ادا کر سکتا ہے؟
پیشاب کے بعد انڈرویئر کے نیچے ٹشو رکھا اور پھر آدھےگھنٹے بعد طہارت حاصل کی ، دورانِ وضو یا نماز حقیقت میں قطرہ کا اخراج ہوگیا تو اب کیا حکم ہے؟ جبکہ بندہ سفر میں یا اضطراری حالت میں بھی ہو ،یا کسی اجتماع میں جہاں رش بھی ہو۔
گرمیوں میں انڈروئیر پہننا اور ٹشو رکھنا بہت مشکل ہے خارش ہوتی ہے اور جلدی مسائل ہوتے ہیں پسینے کی وجہ سے ، اب گرمیوں میں بندہ کیا کرے؟ خاص طور پر بندہ سفر میں ہویا اجتماع میں۔
بعض اوقات طلوعِ آفتاب میں وقت کم ہوتا ہے، پیشاب تیز آیا ہوتا ہے، پیشاب کرتا ہے، وضو کے بعد نمازِ فجر ،اور نمازمیں قطروں کا اخراج ہو جاتا ہے تو اب بندہ کیا کرے؟ اتنا وقت نہیں ہوتا کہ دوبارہ طہارت حاصل کرے۔ یہی کیفیت سفر میں یا اضطراری حالت میں ہو تو بندہ کیا کرے؟
حج و عمرہ میں احرام کی حالت میں ایسے انڈروئیر اور ٹشو رکھنا اور آدھا گھنٹہ انتظار کرنا ، حالتِ احرام میں انڈروئیر پہن کر رکھنا درست ہوگا؟ عام حالات میں انڈروئیر پہن کر رکھتا ہوں تاکہ شلوار بچ جائے ، اتنے رش میں بندہ کیا کرے؟ بار بار طہارت کےلۓ جانا تو مشکل ہوتا ہے۔
طہارت کے مسائل میں لکھا ہوتا ہے پُرانا روپیہ یا چاندی کا سکہ وغیرہ ، آج کے زمانے میں کتنا سائز ہوگا؟ ہم نے تو پُرانی چیزیں نہیں دیکھیں ، تاہم گرمیوں میں انڈروئیر نہیں پہنا جاتا، قطرے شلوار کے ساتھ لگ جاتے ہیں۔ بار بار دھونے سے خارش ہوتی ہے اور گیلے پن کی وجہ سے نیچے کی جلد کے خراب ہونے کے مواقع بڑھ جاتےہیں اور جلد سفید ہو جاتی ہے اور زخم بھی، تو ایسے میں بندہ سفر میں ہو ، اجتماع میں یا ڈیوٹی پر ، براہِ کرم وضاحت سے حکمِ شرعی سے آگاہ فرمائیں۔
سائل کے اندازِ بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شرعاً معذور کے حکم میں نہیں، اس لۓ اسے چاہیۓ کہ ہر نماز کے لۓ وضو کر کے نماز پڑھے اور اگر پہلا وضو قائم ہو تو اس سے بھی پڑھ سکتا ہے، تاہم وضو سے پہلے وہ اچھی طرح پیشاب کے قطرے رُکنے کا اطمینان کر لے جب اُسے اطمینان ہو جائے تووضو کر کے نماز پڑھے، اگر اس اہتمام کے باوجودوضو یا نماز کے دوران کوئی قطرہ نکلے تو بلاشبہ وہ ناقض وضو شمار ہوگا، جس کے بعد وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھنا لازم ہوگا، خواہ کسی اجتماع یا حج و عمرہ کے سفر میں ہی کیوں نہ ہوں اور نماز کا وقت تنگ ہو یا نہ ہو ، جبکہ ہر وقت انڈرویئر پہننا لاز م نہیں، بلکہ یہ تو محض سہولت کے لۓ یبان کیا جاتاہے، ورنہ اس کے بغیر بھی طہارت حاصل کر کے نماز پڑھنا جائز اور درست ہے، جبکہ درہم کی مقدار ہتھیلی کی چوڑائی کے برابر ہے۔
في الدر المختار: (وعرض مقعر الكف) وهو داخل مفاصل أصابع اليد (في رقيق من مغلظة كعذرة) آدمي، وكذا كل ما خرج منه موجبا لوضوء أو غسل مغلظ (وبول غير مأكول ولو من صغير لم يطعم)اھ (1/ 318)۔
وفی الفتاوى الهندية: والصحيح أن يعتبر بالوزن في النجاسة المتجسدة وهو أن يكون وزنه قدر الدرهم الكبير المثقال وبالمساحة في غيرها وهو قدر عرض الكف. هكذا في التبيين والكافي وأكثر الفتاوى والمثقال وزنه عشرون قيراطا اھ(1/ 45)۔