السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرا ایک سوال ہے ہم چند دوست رازق، نسیم ،رسالت، سعود، یہاں عمان میں کام کرتے ہیں سعود پاکستان میں چھٹی پر گیا اور وہاں سے فون کیا کہ پچاس ہزار (50000) روپے کی اشد ضرورت ہے ہم تین آدمیوں نے رسالت ، نسیم اور میں رازق نے سو ، سو ریال جمع کر کے تین سو 300 عمانی ریال پاکستان سعود کو بھیجے یعنی اکاون ہزار (51000) روپے، تین سو عمانی ریال کے، یاد رہے ایک ریال ایک سو ستر پاکستانی روپے کا تھا ، جب سعود واپس عمان میں چھٹی کاٹ کر آیا تو کرنسی گرچکی تھی اس نے کہا کہ اب کرنسی کاریٹ دو سو (200) روپے ہے لہذا اس کے حساب سے دو سو پچپن (255) عمانی ریال بنتے ہیں اس سے زائد رقم سود ہوجائےگی، میرا کہنا ہے کہ تم ہم کو تین سو عمانی ریال دو کیونکہ ہم نے یہاں سے عمانی ریال بھیجے کسی اور سے ادھار بھی لینا پڑا اور اس کا کہنا ہے مجھے پاکستانی رقم اکاون ہزار (51000) ملی لہذا اکاون ہزار کا دو سو پچپن (255) ریال بنتا ہے قرآن وسنت کی روشنی میں آپ ہماری رہنمائی کریں کیا اس میں سود کا سوال پیدا ہوتا ہے؟
جب سعود نے مبلغ پچاس ہزار روپے قرض مانگا تھا اگر اس کے پاس مذکور دوستوں نے عمانی ریال کو روپے میں تبدیل کرنے کے بعد بینک یا کسی فرد کے ذریعہ پچاس کے بجائے اکیاون ہزار روپے بھیجے تھے، تو اب وہ اتنی ہی رقم کا مطالبہ کر سکتے ہیں، اس سے زائد شرعاً سود کے حکم میں ہوگا اس کا لینا جائز نہیں، اور اس صورت میں عمانی ریال کی قیمت خرید وفروخت کا اعتبار نہیں ورنہ اس کے علاوہ کوئی صورت درپیش ہوئی ہو اس کی مکمل تفصیل لکھ کر سوال دوبارہ ارسال کیا جائے انشاء اللہ اس کے متعلق حکمِ شرعی سے بھی آگاہ کر دیا جائے گا۔
و فی الشامیۃ: تحت قولہ ((قوله فلا عبرة بغلائه ورخصه) ( الی قولہ) وإن استقرض دانق فلوس أو نصف درهم فلوس، ثم رخصت أو غلت لم يكن عليه إلا مثل عدد الذي أخذه،( الی قولہ) ولا ينظر إلى غلاء الدراهم، ولا إلى رخصها، الخ (5/ 162)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0