کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک غیر ملک میں پاکستانی طالب علم ہوں ، یہاں نمازِ ظہر اور عصر کے اوقات کے درمیان تعلیم کا سلسلہ چل رہا ہوتا ہے، ایک دن میں وضو کر رہا تھا کہ میرے پروفیسر نے مجھے غسل خانے کے سنگ (واشن بیسن) میں پاؤں دھوتے ہوئے دیکھااور مجھے ایسا کرنے سے منع کیا ،اب مجھے اپنی نماز کی ادائیگی کے لۓ اپنے فلیٹ پر جانا پڑتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا میں پاؤں کا مسح کر سکتا ہوں؟ کیا اس طرح اس کیفیت میں میرا وضو مکمل ہو جائےگا؟ میرا تعلق حنفی مسلک سے ہے۔
ایسی صورت میں سائل کو چاہیۓ کہ وہ سنک میں پاؤں دھونے کی بجائے غسل خانہ یا بیت الخلاء میں کسی چوکی وغیرہ پر بیٹھ کر دھویا کرے یا گھر سے وضو کر کے آیا کرے، اس صورت میں بھی پاؤں پر مسح کرنا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ﴾ (المائدة: 6)۔
وفي الاختيار لتعليل المختار: من أراد الصلاة وهو محدث فليتوضأ. وفرضه: غسل الوجه، وغسل اليدين مع المرفقين، ومسح ربع الرأس، وغسل الرجلين مع الكعبين اھ(1)۔