کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ وضو میں مرد اور عورت کے مسح کا طریقہ ایک ہی ہے یا کہ مرد اور عورت کے مسح کا طریقہ جدا جدا ہے، ایک عالمِ دین مستورات کو بیان کرتےہوئے کہتا ہے کہ مسح ہاتھ کی پشت کی طرف سے نہیں، بلکہ سیدھی طرف سے کیا جائے ، جبکہ بہشتی زیور میں بھی لکھا ہوا ہے کہ انگلیوں کی پشت کی طرف سے گردن کا مسح کیا جائے ، اس عالمِ دین سے جب بہشتی زیور کے حوالہ سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ بہشتی زیور میں غیر مستند چیزیں بھی ہیں ، اس کے بارے میں وضاحت فرمائیں۔
دورانِ وضو گردن کے مسح کا طریقہ مردوں اور عورتوں کے لۓ ایک ہی ہے نہ کہ جدا جدا ، اور وہ یہ کہ گردن کا مسح ہاتھ کی پشت سے کیا جائے اور یہ بات کتبِ فقہ معتبرہ میں مصرّح ہے اور صرف استحباب کے درجہ میں ہے۔ اب کسی شخص کا یہ کہنا کہ ہتھیلی کی جانب سے مسح کیا جائے، اگرچہ جائز اور درست ہو، مگر یہ کہنا کہ بہشتی زیور میں غیر مستند چیزیں ہیں، بالکل غلط اور بہتان ہے جس سے احتراز چاہییے۔
ففی فتح القدیر: ومسح الرقبة مستحب بظهر الیدین اھ (۱/۳۱)۔
وفی التاتارخانیة: ومسح الرقبة مستحب بظهر الیدین لعدم استعمال بلتهما اھ (۱/۱۱۱)۔
وفی الدر المختار: (ومسح الرقبة) مستحب بظهر الیدین اھ (۱/۱۲۴)
وفی الشامیة: (تحت قوله: ومسح الرقبة) وعبر فی المنیة بظهر الأصابع اھ (۱/۱۲۴)۔
وفی الفتاویٰ الهندیة: ومسح الرقبة مستحب بظهر الیدین اھ(۱/۸)۔